.

سعودی کمپیوٹر نظاموں پر سائبر حملے جاری ،ایرانی تعلق کے نئے ثبوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی اینٹی وائرس فرم مکیفی کے محققین کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران میں سعودی عرب میں کمپیوٹرز پر سائبر حملے جاری رہے ہیں۔انھوں نے سعودی اہداف کے خلاف اس نئی تخریبی مہم سے متعلق نئی تفصیل کا انکشاف کیا ہے۔

مکیفی کے چیف سائنسدان راج سمعانی نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں حالیہ سائبر دراندازیاں 2012ء ایسی ہی خطرناک ہیں۔ تب سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو کے کمپیوٹر سسٹمز کو سائبر حملوں میں شدید نقصان پہنچایا گیا تھا۔

سمعانی نےبدھ کو اپنا بلاگ پوسٹ کرنے سے قبل بتایا ہے کہ یہ مہم اپنے ضرر کے اعتبار سے 2012ء کے سائبر حملوں زیادہ خطرناک ہے۔ یاد رہے کہ تب سعودی آرامکو کے علاوہ قطر کی قدرتی گیس کمپنی راس گیس کے کمپیوٹر نظام پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔ ان دونوں بڑی کمپنیوں کے ہزاروں کمپیوٹروں کو ناکارہ کردیا گیا تھا اور ان پر موجود ڈیٹا ختم ہوگیا تھا۔ امریکا نے پرائیویٹ سیکٹر پر اس کو سب سے تباہ کن حملہ قرار دیا تھا۔

مکیفی نے دوسری فرموں کی سائبر حملوں سے متعلق تحقیق کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیکنگ کی حالیہ لہر کے دوران میں اسی کوڈ پر انحصار کیا گیا ہے جس کا پانچ سال قبل دراندازی کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔اس کوڈ کو ماضی میں ’’ راکٹ کٹن‘‘ کے نام سے منظرعام پر آنے والے ہیکنگ گروپ نے استعمال کیا تھا۔اس کو سائبر جاسوسی کے لیے آئیل رگ نامی مہم میں بھی استعمال کیا گیاتھا۔

امریکا کی سائبر سکیورٹی فرموں نے ان دونوں سائبر حملوں کا ایران سے ناتا جوڑا ہے۔یہ اور بات ہے کہ انھیں کم یا زیادہ دونوں طرح کا یقین ہے کہ ان سائبر حملوں میں ایران کسی نہ کسی طرح سے ملوث ہے۔ تاہم مکیفی نے حالیہ حملوں کا کسی خاص کردار سے ناتا نہیں جوڑا ہے۔

سعودی حکام اور نیوز میڈیا نے اس سائبر دراندازی کے حوالے سے بہت تھوڑی تفصیل جاری کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دس سے زیادہ سرکاری ایجنسیوں اور کمپنیوں کے کمپیوٹر نظام اس حملے میں متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم سعودی حکومت یا ایران کے کسی عہدے دار کی جانب سے ان سائبر حملوں کی تصدیق یا تردید میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔