.

شام میں جنگ بندی کے لیے روس پر دباؤ ڈالنے کا امریکی مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ صدر بشار الاسد کے دیرینہ حلیف روس پر شام میں جنگ بندی اور امدادی کارروائیوں کی بحالی کے لیے ہر ممکن حد تک دباؤ ڈالے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سلامتی کونسل کےاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی خصوصی مندوبہ نکی ہیلی نے کہا کہ ’شام میں جنگ بندی ناگزیر ہوچکی ہے۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہےکہ عالمی برادری روس پر شام میں دیر پا جنگ بندی کے قیام کے لیے ہر ممکن دباؤ ڈالے تاکہ خون خرابہ روکنے کے ساتھ ساتھ جنگ سے محصور ہونے والے شہریوں تک امداد پہنچائی جاسکے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر روس چاہے تو شام میں جنگ بندی کراسکتا ہے۔

امریکی سفیرہ کا کہنا تھا کہ شام میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی کوئی ملک حمایت نہیں کرتا۔ سلامتی کونسل کا کون سا رکن ملک شام کے صدر بشارالاسد کی حمایت کررہا ہے اور شام میں انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

درایں اثناء اقوام متحدہ میں امدادی شعبے کے نگران اسٹیفن اوبرائن نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایک رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ شام میں خانہ جنگی ساتویں سال میں داخل ہوگئی ہے اور ہرآنے والے دن انسانی حقوق کی پامالیوں اور انسانی المیے میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے مشرقی الغوطہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسدی فوج نے الغوطہ میں 4 لاکھ عام شہریوں کو محصور بنا رکھا ہے۔

’یو این‘ اہلکار کا کہنا تھا کہ مشرقی الغوطہ میں گذشتہ برس اکتوبر کے بعد سے اب تک امدادی قافلوں کی رسائی رکی ہوئی ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرانس کے سفیر فرانسو دولاٹر نے شام کی صورت حال کو انتہائی دردناک قرار دیا۔ انہوں نے شام میں فوری اور وسیع تر جنگ بندی کے قیام کے امریکی مطالبے کی حمایت کی۔

دوسری جانب سلامتی کونسل میں روس کے قائم مقام مندوب پیٹر الیٹچیف نے کہا کہ مجموعی طور پر شام میں جنگ بندی ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسد رجیم کے خلاف بلا جواز تنقید اور معاملے کو زیدہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوششیں قابل مذمت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شام میں جنگ بندی کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنے کے لیے ترکی، روس اور ایران ملک کر کام کررہے ہیں۔