.

مغربی یمن میں گھمسان کی جنگ، باغیوں کا شدید جانی نقصان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مغربی ساحلی علاقے میں گذشتہ روز یمنی فوج اور عرب اتحادی فوج کی طرف سے باغیوں کے ٹھکانوں پر بھرپور بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں ایران نواز حوثی باغی اور مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا کو غیرمعمولی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

العربیہ ٹی وی کے نامہ نگار کے مطابق یمنی فوج اتحادی فوج کی مدد سے ساحلی شہر المخا کے مشرق میں دفاعی اہمیت کے حامل معسکر خالد بن الولید پر اپنا کنٹرول مضبوط بنانے کے ساتھ اتھ الحدیدہ شہرکی طرف بھی پیش قدمی کی کوشش کررہی ہے۔

ساحلی شہر الحدیدہ کے جنوبی علاقوں میں بھی باغیوں کے ٹھکانوں پر عرب اتحادی فوج نے فضائی حملے کیے ہیں۔

یمن کے ایک عسکری ذریعے کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج اور اتحادی فوج کی کارروائیوں میں مغربی المخاء میں معسکر خالد بن الولید اور جنوب کی سمت میں المخا چوک میں باغیوں کے کئی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

گذشتہ روز اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں نے المخا اور الحدیدہ میں التحیتا اور بیت فقیہ میں باغیوں کے متحرف اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ تعز گورنری میں موزع کے مقام پر باغیوں کی کمک کو نشانہ بنایا گیا۔

دارالحکومت صنعاء میں بھی اتحادی ممالک کے طیاروں نے باغیوں کے کئی اہداف کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک اسلحہ ڈپو تباہ ہوگیا۔ شمالی صنعاء، السواد اور سابق ری پبلیکن گارڈ کے زیرانتظام ضبوۃ فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔