.

’خامنہ ای آزادی صحافت کے سب سے بڑے دشمن‘

’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کی آزادی صحافت پر سالانہ رپورٹ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ذرائع ابلاغ اور آزادی صحافت کے لیے عالم سطح پر سرگرم تنظیم نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پانچ ملکوں کو صحافیوں کے لیے جیلیں قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافتی آزادیوں کے دشمنوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ سب سے آگے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کی طرف سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافتی آزادیوں پر قدغنیں لگانے کے اعتبار سے 180 ملکوں کی فہرست میں ایران 165 ویں نمبر پر ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں سرکاری سیکیورٹی ادارے دسیوں صحافیوں کو نام نہاد الزامات کے تحت حراست میں رکھے ہوئے ہیں۔ کرپشن اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانےکے الزامات کی آڑ میں آئے روز صحافیوں اور ابلاغی اداروں کے کارکنان کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال اگرچہ ایران میں آزادی صحافت میں چار پوائنٹ بہتری آئی ہے مگر عالمی سطح پر اسے آزادی صحافت میں بہتری قرار نہیں دیا جاتا۔ پوری دنیا میں صحافتی آزادیوں کی حالت خراب دیکھی گئی۔

دنیا بھر میں آزادی صحافت

صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کی طرف سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران دنیا بھرمیں صحافتی آزادیاں متاثر ہوئی ہیں۔ نہ صرف ان ملکوں میں جہاں آمرانہ حکومتیں قائم ہیں بلکہ جمہوریت کے علمبرداروں کے ہاں بھی آزادی صحافت بہتری کے بجائے بدتر کی طرف بڑھ رہی ہے۔

صحافتی آزادیاں سلب کرنے کے لیے ریاستی طاقت کے مکروہ حربوں کے استعمال کی تمام شکلیں نمایاں ہیں۔

’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھرمیں گذشتہ ایک برس کے دوران آزادی صحافت میں 2.3 فی صد کمی آئی ہے۔ کینیڈا 180 ملکوں کی فہرست میں 22 ویں، امریکا 43 ویں، پولینڈ 54 ویں، نیوزی لینڈ 13 ویں اور نامبیا 24 ویں نمبر پر ہیں۔

البتہ یورپی ملکوں میں صحافتی آزادی کا معیار قدرے بہتر ہوا ہے۔ شمالی یورپ کے اسکنڈ نیوین ممالک ڈنمارک، سویڈن، ناروے اور فن لینڈ میں سب سے بہتر صحافتی آزادیوں کا مظاہرہ سامنے آیا۔