.

امریکا کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کا آغاز چاہتے ہیں: ایردوآن

ٹرمپ شام میں داعش کو کچلنے کے لیے سنجیدہ ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے جمعہ کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی امریکا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے ایک نئے دور کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وسط مئی میں ان کا دورہ امریکا اورامریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی تعلقات کےایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی۔

استنبول میں ’اٹلانٹک کونسل‘ کے زیراہتمام ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوآن نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں ہم ترکی اور امریکا کے درمیان تعلقات کا ایک نیا دور شروع کریں گے۔ انہوں نے یہ بات ایک ایسے وقت میں کی ہے جب وہ حال ہی میں شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کی حمایت اور مدد پر امریکا کو کڑی تنقید کا نشاہ بنا چکے ہیں۔

ترک حکام کے مطابق صدر ایردوآن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات 16 اور 17 مئی کے درمیان واشنگٹن میں ہوگی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد ایردوآن کی ان سے یہ پہلی باضابطہ ملاقات ہوگی۔

ترکی اور شام کی سرحدوں کا مسئلہ

شام ہی کے سیاق میں بات کرتے ہوئے صدر ایردوآن نے کہا کہ شام کی جنوبی سرحد پر گذشتہ دو روز کے دوران مارٹر گولوں سے بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے ہیں۔ ترک فوج نے ان حملوں کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔

استنبول میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام میں کرد جنگجوؤں کو امریکا کی طرف سے امداد کی فراہمی انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات متاثر کرسکتی سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ ٹرمپ سے ملاقات کےبعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شام کی سرحد کےاندر سے جب تک ترکی کو خطرہ ہوگا ترک فوج جوابی کارروائی کے لیے تیار رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جنوبی شام کی سرحد کو دہشت گردی کی محفوظ گذرگاہ نہیں بننے دیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں صدر ایردوآن نے کہا کہ شام کی شمالی اور مغربی سرحد اور دریائے فراد کے مغربی کنارے پر کرد جنگجو گروپ حمایۃ الشعب یونٹ کے جنگجو اب بھی موجود ہیں۔

ترک صدر نے کہا کہ شام میں صرف داعش ہی کو سب سے بڑا خطرہ قرار دے کر دیگر جنگجو گروپوں کو نظر انداز کرنا غلط حکمت عملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈٹرمپ کے اقدامات سے یہ اشارہ ملا ہے کہ وہ شام میں داعش کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔