.

امریکی انتظامیہ کا حوثیوں کے خلاف عرب اتحاد کی مدد پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایرانی حمایت یافتہ یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں عرب اتحاد کی مدد پرغور کررہی ہے۔

’الحدث‘ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ حوثی باغیوں کی لڑائی کو یمن میں ایرانی مداخلت اور بین الاقوامی اہمیت کی حامل باب المندب بندرگاہ میں بین الاقوامی جہاز رانی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی ایرانی سازش کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یمن میں ایران کی فوجی مداخلت اور باب المندب میں بین الاقوامی آبی ٹریفک کو خطرے میں ڈالنے کے بعد کوئی بعید نہیں کہ ٹرمپ حوثی باغیوں کی سرکوبی کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں سرگرم عرب اتحاد کی مدد کا اعلان کرے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کی حوثیوں کے خلاف جاری جنگ میں عرب اتحاد کی کئی پہلوؤں سے مدد ہوسکتی ہے۔ سمندری مانیٹرنگ آپریشن کے ذریعے حوثیوں پر نظررکھنا، بحر احمر کے راستے حوثیوں تک اسلحہ کی ترسیل روکنا، حوثی باغیوں کی نقل وحرکت کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنا اور سیٹلائیٹ کے ذریعے حوثی باغیوں کی نقل وحرکت کے بارے میں عرب اتحاد کو معلومات فراہم کرنا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو بہ خوبی اندازہ ہے کہ یمن میں جاری لڑائی میں ایران کی کھلی مداخلت ہے۔ یمن میں ایرانی مداخلت جزیرۃ العرب میں بالخصوص یمن میں موجود القاعدہ کے خلاف جنگ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ تزویراتی اہمیت کی حامل یمن کی باب المندب بندرگاہ سے بین الاقوامی آبی ٹریفک کو بھی ایرانی مداخلت سے خطرات لاحق ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران یمن میں اپنے حامی جنگجوؤں کی ہرممکن مدد کررہا ہے۔ امریکا کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے ماتحت نیول فورس کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ یمنی باغیوں کے پاس ایسے ہتھیار بھی موجود ہیں جو جنگ سے قبل یمن میں نہیں تھے۔ ان میں بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔ جنگ سے قبل کے میزائلوں کی نسبت آج کے بیلسٹک میزائلوں کو دور تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔

ایک مارات عہدیدار نے حال ہی میں انکشاف کیا تھا کہ یمنی باغیوں نے ڈرون طیارے، ٹینک شکن میزائل، بحری جنگی جہاز، سمندر اور خشکی میں نصب کی جانے والی جدید ترین بارودی سرنگیں بھی حاصل کر رکھی ہیں۔