.

ترکی اور شام کی سرحد پر کشیدگی، امریکا نگرانی کرے گا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں کرد پیپلز ڈیفنس یونٹ کے سربراہ نے کہا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے سے ترکی اور شام کی سرحد پر کرد جنگجوؤں اور ترک فوج کے درمیان فائرنگ کے واقعات کے بعد امریکا نے دونوں ملکوں کی سرحد کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’حمایۃ الشعب‘ کے سربراہ شرفان کوبانی نے کہا کہ ترکی کی سرحد کے قریب الدرباسیہ قصبے میں کرد جنگجوؤں اور امریکی حکام کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فی الوقت امریکی فوج ترکی اور شام کی سرحد کی باقاعدگی کے ساتھ مانیٹرنگ نہیں کرے گی تاہم اس حوالے سے رپورٹ سینیر امریکی فوجی عہدیداروں تک پہنچائی جائے گی۔

قبل ازیں استنبول میں ’اٹلانٹک کونسل‘ کے زیراہتمام ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر ایردوآن نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں ہم ترکی اور امریکا کے درمیان تعلقات کا ایک نیا دور شروع کریں گے۔

انہوں نے یہ بات ایک ایسے وقت میں کی ہے جب وہ حال ہی میں شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کی حمایت اور مدد پر امریکا کو کڑی تنقید کا نشاہ بنا چکے ہیں۔