.

سعودی عرب : مسلح افراد کے ہاتھوں یرغمال پولیس اہلکار جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی علاقے القطیف میں مسلح افراد کے ایک کیفے پر حملے میں اغوا ہونے والا پولیس اہلکار جاں بحق ہوگیا ہے۔

نامعلوم نقاب پوش مسلح افراد نے جمعے کو علی الصباح القطیف میں واقع علاقوں سیہات اور الجش کے درمیان ایک کیفے پر حملہ کردیا تھا اور وہ ہاشم الزہرانی کو اغوا کر کے ساتھ لے گئے تھے۔انھوں نے کیفے پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی اور وہاں موجود شہریوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ فائرنگ سے ایک اور پولیس اہلکار عبداللہ الدلبحی موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا تھا۔

سعودی حکام نے ہاشم الزہرانی کی موت کی ہفتے کے روز تصدیق کی ہے لیکن انھوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی ہے کہ وہ کب اور کن حالات میں جاں بحق ہوا ہے۔ مقتول اہلکار ٹریفک کنٹرول میں کام کرتا تھا اور ا س کو دو سال قبل بھی القطیف میں گولی لگی تھی مگر اس نے اپنے زخم مندمل ہونے کے بعد دوبارہ کام شروع کردیا تھا۔

مشرقی صوبے کی پولیس کے ترجمان کرنل زیاد الرقیتی نے العربیہ کو بتایا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہے اور اس بات کا تعیّن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آیا اس کا دہشت گردی سے تعلق ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح سوا پانچ بجے کے قریب سکیورٹی کی ایک گشتی پارٹی اور پولیس کو سیہات میں ایک کیفے پر مسلح نقاب پوشوں کے خود کار ہتھیاروں سے حملے کی اطلاع ملی تھی۔جب پولیس اہلکار وہاں پہنچے تو انھوں نے اغوا کاروں کی گاڑی کو کیفے کے داخلی دروازے کے نزدیک کھڑے دیکھا تھا ۔انھوں نے اس کے نزدیک ایک اور کار میں ایک شخص کی لاش دیکھی تھی۔وہ گولی لگنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا تھا۔

بعد میں اس مقتول کی شناخت عبداللہ الدلبحی کے نام سے کی گئی تھی۔اس کے ایک ساتھی محمد الشہری نے العربیہ کو بتایا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز میں گذشتہ کئی برسوں سے خدمات انجام دے رہا تھا اور اس کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی۔

مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بہت سے لوگوں نے اس واقعے کو شئیر کیا ہے اور القطیف میں پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بے گناہ شہریوں کو دہشت گرد گروپوں سے بچائیں۔اس سے پہلے ان دہشت گردوں نے جج محمد الجیرانی کو اغوا کر لیا تھا۔اب انھوں نے پولیس اہلکار ہاشم الزہرانی کو اغوا کے بعد قتل کردیا ہے۔انھوں نے نبیہ الابراہیمی نامی ایک انجنیئر پر بھی حملہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ اس علاقے میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے متعدد اہلکار اور عام شہری دہشت گردوں کے حملوں میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔