.

یمن : حوثی اور علی صالح کے پیروکار کھل کر آمنے سامنے آگئے

صنعا میں خود ساختہ حکومت کی وزارتوں پر حوثیوں اور علی صالح کے وفاداروں میں نیا تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی دارالحکومت صنعا میں معزول صدر علی عبداللہ صالح کے پیروکار اور حوثی ملیشیا کے کار پرداز کھل کر آمنے سامنے آگئے ہیں اور حوثیوں کی اعلیٰ سیاسی کونسل کے سربراہ صالح الصماد نے خود ساختہ حکومت کے سربراہ کے ایک حالیہ فیصلے کو منسوخ کردیا ہے۔

حوثی ملیشیا کی خود ساختہ کٹھ پتلی حکومت کے سربراہ نے اپنے وزیر خارجہ ہشام شرف کو منصوبہ بندی اور بین الاقوامی تعاون کی وزارت بھی سونپ دی تھی۔اس پر حوثی رہ نما اور سپریم سیاسی کونسل کے صدر صالح الصماد اور معزو ل صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار اور غیر تسلیم شدہ حکومت کے سربراہ عبدالعزیز بن حبتور کے درمیان تنازع پیدا ہوگیا ہے۔

منصوبہ بندی اور بین الاقوامی تعاون کی وزارت کا قلم دان پہلے یاسر العواضی کو پیش کیا گیا تھا۔انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا تھااور اس کے بعد بن حبتور نے باغی حکومت کے وزیر خارجہ ہشام شرف کو اس وزارت کا قلم دان سونپ دیا تھا۔

بن حبتور نے اپنے اس فیصلے کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ خارجہ امور اور منصوبہ بندی کی وزارت پر ان کی جماعت کا حق ہے لیکن حوثی ملیشیا کی نام نہاد سپریم سیاسی کونسل نے ان کے اس فیصلے کو مسترد کردیا ہے اور اس کے صدر صالح الصماد نے اس کی تنسیخ کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔