.

ابوظبی: لیبیا کے وزیراعظم فایزالسراج اور جنرل خلیفہ حفتر میں ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے طاقتور فوجی کمانڈر سابق جنرل خلیفہ حفتر نے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ فایز السراج سے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظبی میں منگل کے روز ملاقات کی ہے۔

خلیفہ حفتر گذشتہ کئی ماہ سے عالمی سفارتی دباؤ کے باوجود طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت کے وزیراعظم سے براہ راست بات چیت سے انکار کرتے چلے آرہے تھے جبکہ علاقائی اور مغربی قوتیں لیبیا کے ان دونوں لیڈروں پر اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے شدہ سمجھوتے کے تحت بات چیت کے ذریعے ایک قومی حکومت کی تشکیل کے لیے دباؤ ڈال رہی تھیں۔

واضح رہے کہ لیبیا میں اس وقت دو متوازی حکومتیں کام کررہی ہیں اور ان کے تحت فورسز نے اپنے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔ ملک میں سنہ 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری طوائف الملوکی کے خاتمے کے اقوام متحدہ کی ثالثی میں ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔ اس کے تحت فایز السراج کی قیادت میں قومی اتحاد کی حکومت تشکیل پائی تھی لیکن اس کو مشرقی شہر بنغازی پر قابض خلیفہ حفتر اور ان کی فورسز نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

لیبیا کی مشرقی پارلیمان کے ایک رکن حمد بنداق نے قبل ازیں صحافیوں کو بتایا تھا کہ خلیفہ حفتر وزیراعظم فایز السراج سے ابو ظبی میں بات چیت کرنے والے ہیں۔ان دونوں رہ نماؤں نے سوشل میڈیا پر اپنی ملاقات کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔2016ء کے اوائل کے بعد دونوں کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہے۔

جنرل خلیفہ حفتر اور مشرقی لیبیا سے تعلق رکھنے والے دھڑوں نے اپنی حکومت اور پارلیمان قائم کررکھی ہے اور وہ طرابلس حکومت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں جبکہ لیبی دارالحکومت اور دوسرےمغربی شہروں سے تعلق رکھنے والے دھڑے فایز السراج کی سربراہی میں قومی حکومت کی حمایت کررہے ہیں۔