.

شامی باغیوں کے وفد کی اسد رجیم سے مذاکرات کے لیے آستانہ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی باغیوں کا ایک وفد روس کی ثالثی میں اسد حکومت کے نمائندوں سے مذاکرات کے لیے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ پہنچ گیا ہے۔

قزاقستان کی وزارت خارجہ نے باغی دھڑے جیش الاسلام کے لیڈر محمد علوش کی قیادت میں وفد کی آستانہ آمد کی تصدیق کی ہے۔ شامی فریقوں کے درمیان روس ،ترکی اور ایران کی حمایت اور ثالثی میں بدھ اور جمعرات کو بات چیت ہوگی اور اس کے ایجنڈے میں شام میں جاری جنگ کا خاتمہ اور انتقال اقتدار کا موضوع سرفہرست ہوگا۔

شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے ایک مشیر یحییٰ العریضی نے بتایا ہے کہ ان مذاکرات میں بھی حزب اختلاف کا وہی وفد حصہ لے رہا ہے جس نے سابقہ مذاکرات میں شرکت کی تھی۔

تاہم باغیوں نے محمد علوش کی شرکت کی الگ سے تصدیق نہیں کی ہے جبکہ شامی حکومت کے وفد کی قیادت اقوام متحدہ میں سفیر بشارالجعفری ہی کریں گے۔

اقوام متحدہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ شام کے لیے عالمی ایلچی اسٹافن ڈی میستورا بھی ان مذاکرات میں شریک ہوں گے اور ان سے جنیوا میں اسی ماہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں امن مذاکرات کے نئے دور کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ آستانہ میں روس کی میزبانی اور ثالثی میں جاری مذاکرات میں اب تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔مارچ میں مذاکرات کے گذشتہ دور میں دمشق حکومت کے وفد نے مذکورہ تینوں ممالک کے نمائندوں سے بات چیت کی تھی جبکہ مسلح باغی گروپوں نے ان مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا تھا۔

قزاقستان کی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے قائم مقام اسسٹینٹ سیکریٹری برائے مشرق قریب امور اسٹیورٹ جونز ان مذاکرات میں ایک مبصر کی حیثیت سے حصہ لیں گے۔مذاکرات کے سابقہ ادوار میں قزاقستان میں متعیّن امریکی سفیر اپنے ملک کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔