.

شامی حکومت کی فوجی امداد جاری رکھی جائے گی: ایرانی کمانڈر

وقتِ ضرورت شام میں مزید فوجی مشیر اور رضا کار بھیجے جا سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک کمانڈر نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام میں اپنے سیکڑوں مشیروں اور رضاکاروں کی ہلاکتوں کے باوجود بشارالاسد کی حکومت کی فوجی امداد جاری رکھے گا۔

پاسداران انقلاب کی بری فورسز کے کمانڈر جنرل محمد پاک پور نے نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ہم تمام شعبوں میں مشیروں کو بھیجیں گے اور اپنی اسطاعت کے مطابق شامی حکومت کی ہر طرح کی مدد کریں گے تاکہ مزاحمتی قوت میں کمی واقع نہ ہو‘‘۔

ایرانی کمانڈر نے کھلے بندوں شام میں اپنے لاتعداد فوجی مشیروں کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’ وہ اس وقت وہاں موجود ہیں اور اگر مشاورتی امداد کی مزید ضرورت پیش آتی ہے اور تو ہم مزید بھی بھیجیں گے‘‘۔

واضح رہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے خصوصی دستے اور صبرین خصوصی فورسز کے یونٹ سے شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے شانہ بشانہ باغی گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں ۔اس کے علاوہ لبنان کی شیعہ ملیشا حزب اللہ اور ایرانی فورسز کی تربیت یافتہ مختلف شیعہ ملیشیائیں بھی شام میں مقدس مقامات کے تحفظ کے نام پر مسلح باغی گروپوں کے خلاف لڑرہی ہیں۔

پاسداران انقلاب کے تربیت یافتہ ’’ رضاکاروں‘‘ میں ایرانی شہریوں کے علاوہ پڑوسی ملکوں افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے شیعہ جنگجو بھی شامل ہے اور وہ شام کے علاوہ عراق میں بھی داعش اور دوسرے گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔ایرانی حکام کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق مارچ کے اوائل تک شام اور عراق میں جاری لڑائیوں میں 2100 سے زیادہ ایرانی جنگجو ہلاک ہوچکے تھے۔