.

سعودی شہریوں کو نرم شرائط پر 10 لاکھ مکانات ملیں گے

سعودی ویژن 2030ء پر مختلف اوقات میں عمل درآمد کیا جائے گا: شہزادہ محمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ حکومت نرم شرائط کے تحت قرضے یا رئیل اسٹیٹ ترقیاتی فنڈ کے ذریعے شہریوں کو دس لاکھ سے زیادہ مکانات تعمیر کر کے دے گی۔

انھوں نے منگل کی شب العربیہ ٹی وی اور سعودی ٹی وی سے بیک وقت نشر کیے گئے انٹرویو کے دوران میں بتایا ہے کہ مکانوں کی تعمیر کا یہ پروگرام 2017ء کی تیسری سہ ماہی میں شروع کیا جائے گا۔

سعودی شہریوں کے لیے مکانوں کی تعمیر کا یہ منصوبہ کونسل برائے اقتصادی امور اور ترقی کے وضع کردہ دس تزویراتی پروگراموں میں شامل ہے۔ مملکت کی سماجی اور اقتصادی ترقی اور معیشت کو متنوع بنانے کے یہ تمام پروگرام سعودی ویژن 2030ء کا حصہ ہیں ۔سعودی عرب کی وزارتی کونسل نے اپریل 2016ء میں اس ویژن کی منظوری دی تھی۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے انٹرویو میں وضاحت کی ہے کہ سعودی ویژن 2030ء پر مختلف اوقات میں اور مختلف پروگراموں کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا۔اس سے ملک میں بے روزگاری کی شرح میں بھی سات فی صد تک کمی کا امکان ہے۔

انھوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سعودی شہریوں کو زر تلافی دیا جائے گا اور حکومت معاشرے کے ایک بڑے طبقے کو امداد مہیا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

تاہم سعودی ولی عہد نے واضح کیا کہ حکومت نے شہریوں کو علاج معالجے کی سہولتیں مہیا کرنے کا عزم کررکھا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ اسپتالوں کا بھی بندو بست کرے۔ان کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے کی ترقی ایک بہت پیچیدہ عمل ہے۔

شہزادہ محمد نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ گذشتہ دو سال کے دوران میں تیل کے سوا دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن میں دُگنا اضافہ ہوگیا ہے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود سعودی عرب کے اقتصادی اشاریے بلند سطح پر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری قرضوں کی مالیت مجموعی قومی پیداوار کے 30 فی صد سے زیادہ نہیں بڑھے گی۔

انھوں نے بتایا کہ سرکاری (پبلک) سرمایہ کاری فنڈ کا سب سے اہم عنصر آرامکو کے حصص کی فروخت ہے۔اس سے سرکاری فنڈ میں وافر مقدار میں رقوم آئیں گی اور اس سے آمدن کے دوسرے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

سعودی حکومت نے سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے پانچ فی صد حصص فروخت کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔اس سے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ میں حاصل ہونے والی رقوم میں سے آیندہ تین سال کے دوران میں 133 ارب ڈالرز خرچ کیے جائیں گے۔