.

لیبیا کے متحارب فریقوں میں متحدہ فوج کی تشکیل پر اتفاق

لیبیا میں جاری سیاسی اور اقتصادی بحران کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے متحارب سیاسی اور عسکری فریقوں نے ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے امن کوششوں کی ضرورت پر زوردیا ہے اور انھوں نےملک کی متحدہ فوج کی تشکیل کے لیے ایک حکمت عملی سے اتفا ق کیا ہے۔

لیبیا کے متحارب فریقوں کے درمیان یہ اہم پیش رفت قومی اتحاد کی حکومت کے وزیر اعظم فایزالسراج اور جنرل خلیفہ حفتر کے درمیان منگل کے روز ابو ظبی میں ملاقات کے بعد ہوئی ہے۔ انھوں نے بدھ کو جاری کردہ اپنے الگ الگ بیانات میں لیبیا میں جاری سیاسی اور اقتصادی بحران کے خاتمے اور انتہا پسند گروپوں کے خلاف جنگ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

وزیراعظم فایز السراج نے کہا کہ طرفین نے لیبیا کی ایک متحدہ فوج کی تشکیل اور اس کو سول کنٹرول میں لانے کے لیے حکمت عملی سے اتفاق کیا ہے۔

درایں اثناء جنرل خلیفہ حفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ طرفین نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قیام سے اتفاق کیا ہے تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا مکمل کردار ادا کرسکے۔

دونوں رہ نماؤں نے لیبیا کے جنوبی علاقے میں تشدد کے خاتمے سے بھی اتفاق کیا ہے۔جنوبی شہر سبھا میں ایک فوجی فضائی اڈے کے نزدیک اپریل میں خلیفہ حفتر کی قومی فوج اور قومی حکومت کے تحت فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

جنرل خلیفہ حفتر کے تحت از خود تشکیل کردہ لیبی نیشنل آرمی ( ایل این اے) کا لیبیا کے مشرقی شہروں اور تیل کی اہم تنصیبات پر قبضہ ہے۔ان پر لیبیا میں ایک نئی فوجی آمریت مسلط کرنے کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔

وہ مشرقی لیبیا میں قائم حکومت اور پارلیمان کے پشت پناہ ہیں اور وہ ماضی میں طرابلس حکومت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکاری رہے ہیں جبکہ لیبی دارالحکومت اور دوسرےمغربی شہروں سے تعلق رکھنے والے دھڑے فایز السراج کی سربراہی میں قومی حکومت کی حمایت کررہے ہیں۔