.

امریکا سے آزاد ایران کے اربوں ڈالر مشرق وسطی کے عدم استحکام پر خرچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخباری ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران بڑے ممالک کے ساتھ طے پائے جانے والے نیوکلیئر معاہدے کے ذریعے حاصل ہونے والے اربوں ڈالروں کو اپنے عسکری اداروں پر خرچ کر رہا ہے تا کہ وہ خطے اور دنیا بھر میں مزید تخریبی اور حملہ آور طاقتوں میں بدل جائیں۔

وائس آف امریکا نے جمعرات کے روز اپنی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کے مذکورہ رجحان کے سبب امریکی کانگریس میں سکیورٹی ماہرین اور قانون ساز اراکین تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

تہران کو ملنے والی ان خطیر رقوم کے بعد صدر حسن روحانی کی جانب سے نئے سال کے لیے اعلان کردہ عام بجٹ میں ایران کے دفاعی بجٹ میں 145 فی صد اضافہ ہو گیا ہے۔

امریکی صحافی ایڈم کریڈو نے جمعرات کے روزThe Washington Free Beacon اخبار میں تحریر مضمون میں کہا ہے کہ تہران کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں ختم کیے جانے کے بعد سے ایران نے روس سے کروڑوں ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان خریدنے کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

متعدد اخباری رپورٹوں کے مطابق کانگریس کے اہم ارکان کے نزدیک اوباما حکومت کی جانب سے تہران کو پیش کیے جانے والے 1.7 ارب ڈالر کا ایک حصہ ایران نے مشرق وسطی میں دہشت گردی کو سپورٹ کرنے پر خرچ کیا۔

معروف تجزیہ کار ماہان عابدین نے“Middle East Eye” ویب سائٹ پر اس فیصلے کو ایرانی عسکری سیاست میں ایک بڑا موڑ قرار دیا ہے۔ عابدین کا کہنا ہے کہ "یہ پالیسی ایران کو خلیج میں داخل ہونے میں کامیاب کر سکتی ہے جہاں بڑے پیمانے پر امریکی عسکری موجودگی ہے"۔

ادھر امریکی وزارت دفاع کے سابق مشیر مائیکل روبن کا کہنا ہے کہ " 1998 سے 2005 کے دوران ایران اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تبادلہ کئی گُنا بڑھ گیا اور تیل کی قیمتیں غیر مسبوق صورت میں بلند ہوئیں۔ ایران نے اس خطیر آمدنی کا ایک بڑا حصہ اپنے نیوکلیئر اور میزائل پروگرام پر خرچ کیا"۔ روبن کے مطابق " اُس وقت ایران کی حکمت عملی میں ہم آہنگی کون پیدا کر رہا تھا؟ حسن روحانی جو ایرانی قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سکریٹری جنرل تھے۔ باراک اوباما اور جان کیری نے غالبا نقد رقوم براہ راست بینک کھاتوں میں ارسال کیں جن کا مقصد ایرانی عسکری قوت کو مضبوط بنانا تھا"۔