.

ایران کی پاکستان میں جنگجوؤں کی’’محفوظ پناہ گاہوں‘‘ پر حملے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے سرحدپار حملے کرنے والے جنگجوؤں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی تو اس کے علاقے میں ان کے محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا نے مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری کا سوموار کے روز ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’ ہم اس صورت حال کے تسلسل کو قبول نہیں کرسکتے۔ہم پاکستانی حکام سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرحدوں کو کنٹرول اوردہشت گردوں کو گرفتار کریں گے اور ان کے ٹھکانوں کو بند کردیں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ اگر دہشت گردوں کے حملے جاری رہتے ہیں تو ہم ان کی محفوظ پناہ گاہوں اور کوٹھڑیوں کو نشانہ بنائیں گے، خواہ وہ کہیں بھی واقع ہوں‘‘۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے گذشتہ ہفتے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور وزیراعظم میاں نواز شریف سے بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر سکیورٹی کی صورت حال بہتر بنانے پر زوردیا تھا۔ پاکستان نے ایران کو سرحد پراضافی دستے تعینات کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

گذشتہ ماہ ایران کے علاقے میں جنگجوؤں کے حملے میں دس سرحدی محافظ ہلاک ہوگئے تھے۔ایران نے علاقے میں برسر پیکار جنگجو گروپ جیش العدل پر سرحدی محافظوں کو طویل فاصلے سے مار کرنے والی بندوقوں کے ذریعے نشانہ بنانے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ انھوں نے پاکستانی علاقے سے ایرانی محافظوں کی جانب فائرنگ کی تھی۔

یادرہے کہ سنہ 2014ء میں بھی ایران نے اپنے پانچ سرحدی محافظوں کی بازیابی کے لیے پاکستان میں اپنے فوجی بھیجنے کی دھمکی دی تھی۔انھیں اسی گروپ جیش العدل نے اغوا کر لیا تھا۔تب پاکستان نے انتباہ کے ردعمل میں کہا تھا کہ اس طرح کی کارروائی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔اس نے خبردار کیا تھا کہ ایرانی فورسز سرحد پار نہ کریں۔ تاہم ایران نے ایک مقامی عالم کی مداخلت کے بعد اپنے فوجی پاکستانی علاقے میں بھیجنے کا ارادہ ترک کردیا تھا۔ اغوا کیے گئے چار سرحدی محافظوں کو چند ماہ کے بعد رہا کردیا گیا تھا اور جنگجوؤں نے ایک اہلکار کو ہلاک کردیا تھا۔

پاکستان کی سرحد سے ملحقہ ایرانی صوبے سیستان،بلوچستان میں اپریل 2015ء میں مسلح افراد کے حملے میں آٹھ ایرانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے اکتوبر 2013ء میں ایک مسلح حملے میں چودہ ایرانی سرحدی محافظ ہلاک ہوگئے تھے۔ جیش العدل ہی نے ان دونوں حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔