.

تیونسی باشندہ عمانوایل ماکروں کا نان بائی بننے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں ہفتے فرانس کے نو منتخب صدر عمانوایل ماکروں کے سینئر معاونین دارالحکومت پیرس میں ایک معروف بیکری کے تیونسی نژاد مالک شامی بوعتور سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات کا مقصد پیرس کی بلدیہ اور فرانسیسی ایوان صدارت کے درمیان طے پائے گئے نئے معاہدے پر عمل درامد کا جائزہ لینا ہے۔ اس معاہدے کے تحت الیزے محل کو عبتور کی بیکری سے روٹی اور دیگر متعلقہ مصنوعات فراہم کی جائیں گی۔

سامی عبتور نے جن کی عمر 50 برس ہے 2017 کے لیے فرانسیسی روایتی روٹی "باگت" تیار کرنے والے بہترین نان بائی کا انعام حاصل کیا۔

"باگت" فرانس میں قومی سطح پر انتہائی معروف روٹی ہے جس کی لمبائی 55 سے 65 سینٹی میٹر ہوتی ہے جب کہ وزن 250 سے 300 گرام تک ہوتا ہے۔ اس کی تیاری کے لیے ایک کلو آٹے میں 18 گرام نمک ملایا جاتا ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے سامی عبتور نے بتایا کہ الیزے محل سے ان کو کال موصول ہوئی جس میں مذکورہ معاہدے کے حوالے سے رواں ہفتے مقررہ ملاقات کے بارے میں بتایا گیا۔ سامی کے مطابق معاہدے کی مدت ایک سال ہے۔

سامی کی تیار کردہ "باگت" کی شہرت نے ان کو مذکورہ روٹی کی تیاری کے سالانہ مقابلے میں شرکت کے لیے حوصلہ دیا۔ رواں سال اس مقابلے میں 250 سے زیادہ نان بنائیوں نے شرکت کی۔ مقابلہ جیتنے والے کو 4000 یورو کا مالی انعام دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک برس تک صدارتی محل میں روزانہ روٹی کی فراہمی کا معاہدہ بھی ملتا ہے۔ تاہم جیتنے والا اگلے تین برس تک مقابلے میں شریک نہیں ہو سکتا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات چیت کرتے ہوئے سامی نے بتایا کہ ان کے والد کا تعلق تیونس سے اور والدہ کا فرانس سے تھا اور وہ اس موقع پر کئی وجوہات کی بِنا پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔

سامی کے مطابق نیس شہر میں ہونے والے حملے میں تیونسی نژاد نوجوان کے ملوث ہونے کی خبر آنے پر انہیں کافی شرمندگی کا احساس ہوا تھا تاہم اب انہیں فخر کا احساس ہو رہا ہے کیوں کہ وہ مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں کو یہ ہاد دہانی کرانے میں شریک ہیں کہ تیونس کے لوگ زندگی سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماکروں کی جیت کے بعد فرانس کی مسلم کمیونٹی میں سکون چھا گیا ہے تاہم اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے کیوں کہ قانون ساز انتخابات سر پر ہیں اور اس حوالے سے تمام تر امکانات موجود ہیں۔ اس سے قبل 2013 میں بھی رضا خضر نامی ایک تیونسی نے بہترین "باگت" تیار کرنے والے نان بائی کا اعزاز حاصل کیا تھا اور ایک برس تک الیزے محل میں صدر فرانسوا اولاند اور دیگر قیام پذیر افراد کی روٹی اور دیگر بیکری مصنوعات کی ضروریات کو پورا کیا۔