.

امریکا شامی کردوں کو مسلح کرنے کا فیصلہ واپس لے: ترک صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شامی کرد جنگجوؤں کو مسلح کرنے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے۔

ترک صدر نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ’’ اس غلطی کو فوری طور پر ٹھیک کردیا جائے گا‘‘۔انھوں نے کہا کہ وہ امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ سے 16مئی کو اپنی ملاقات میں اس معاملے پر بات کریں گے اور انھیں ترکی کی تشویش سے آگاہ کریں گے۔

انھوں نے یہ بیان امریکی صدر کی جانب سے کرد پیپلز پروٹیکش یونٹس (وائی پی جی) کو داعش کے خلاف لڑائی کے لیے اسلحہ مہیا کرنے کی منظوری کے بعد جاری کیا ہے۔ترکی شامی کردوں بھی کو ترک کرد باغیوں کی جماعت کردستان ورکرز پارٹی کا دوسرا چہرہ قراردیتا ہے اور اس نے انھیں دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

صدر رجب طیب ایردوآن نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ترکی کے اتحادی دہشت گرد تنظیم کے بجائے انقرہ کا ساتھ دیں۔

دریں اثناء ترکی کے نائب وزیراعظم نورالدین چانکلی نے اے خبر ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’وائی پی جی کو اسلحہ مہیا کرنے کا عمل بالکل ناقابل قبول ہے۔اس طرح کی پالیسی سے کسی کو کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا۔ہم توقع کرتے ہیں کہ اس غلطی کو درست کردیا جائے گا‘‘۔

وائی پی جی کے ترجمان رضور جلیل نے اس فیصلے پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’امریکا کے اسلحہ مہیا کرنے کے تاریخی فیصلے کے بعد ہمارے یونٹس دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں زیادہ مؤثر اور سرعت سے اپنا کردار ادا کرسکیں گے۔

ادھر امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ امریکا ترکی کے کسی بھی قسم کے تحفظات کو دور کرسکتا ہے۔انھوں نے لیتھوانیا میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ ’’ہم ترکی کی جنوبی سرحدوں پر سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے اس کے ساتھ مل کر کام کریں گے‘‘۔