.

ایران اور ’یونیسکو‘ میں تعلیمی معاہدہ ’ویژن2030‘ معطل

اقدام سپریم لیڈر کی ہدایت پر کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم اور سائنس وثقافت ’یونیسکو‘ کا تعلیم پروگرام [سب کے لیے یکساں تعلیم اور مساوی تعلیم] معطل کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی حکومت کی طرف سے یہ اقدام ’یونیسکو‘ کے ساتھ اس کے تعلیمی پروگرام کے حوالے سے طے پائے معاہدے کے محض دو دن بعد کیا ہے۔ یونیسکو کے اس پروگرام میں عالمی، علاقائی اور ملکی سطح پر تمام شہریوں کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یونیسکو کے تعلیمی پروگرام 2030ء کو معطل کیے جانے سے تہران کی عالمی معاہدوں سے انحراف کی پالیسی کھل کرسامنے آئی ہے۔ یونیسکو کے ساتھ طے پایا معاہدہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حکم پر معطل کیا گیا ہے۔ انہوں نے ’یونیسکو‘ کے تعلیمی پروگرام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے حکومت اور یونیسکو کےدرمیان معاہدے کی مخالفت کی تھی۔

خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے سائنسی نقشہ جات کی اسٹیرنگ کمیٹی کے سیکرتری منصور کبکانیان کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تہران اور ’یونیسکو‘ کے درمیان تعلیم پروگرام 2030ء پر معاہدہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہدایت پرمعطل کردیا گیا ہے۔

مسٹر کبکانیان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یونیسکو معاہدے کے بارےمیں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ سے بات کی ہے۔ اس میں بیان کردہ اصول ملک میں مروجہ سائنسی دستاویزات کے خلاف ہیں، اس لیے ہم اس معاہدے کی ایک شق بھی نافذ نہیں کرسکتے۔

قبل ازیں ایرانی سپریم لیڈر نے اساتذہ اور تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے حکام کے ایک گروپ سے ملاقات میں کہا تھا کہ ’یونیسکو کا تعلیمی ویژن 2030ء‘ اور اس کی مشابہ پروگرامات کو ایران میں نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے حسن روحانی کی حکومت پر یونیسکو کے ساتھ معاہدہ کرنے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔