.

روس، امریکا تعلقات میں بہتری سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے: کریملن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کریملن نے کہا ہے کہ روس کے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے واشنگٹن میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے ایک روز بعد کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں سرد مہری کے خاتمے کے بارے میں کسی نتیجے تک پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

البتہ ان کا کہنا ہے کہ ’’ بات چیت بڑے مثبت انداز میں ہوئی ہے‘‘۔انھوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوتین جولائی میں جرمنی میں گروپ20 کے سربراہ اجلاس میں شریک ہوں گے اور اس موقع پر دونوں کے درمیان بالمشافہ ملاقات متوقع ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان الزامات کا سامنا ہے کہ نومبر میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں روس نے ان کی جیت میں کردار ادا کیا تھا اور ان مدد کی تھی۔ ان میں سب سے بڑا یہ الزام عاید کیا گیا تھا کہ روس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ان کی حریف ہلیری کلنٹن کی جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی کی ای میلز کو ہیک کر لیا تھا جس سے ڈونلڈ ٹرمپ کو فائدہ پہنچا تھا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے صدر ٹرمپ کے علاوہ اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹیلرسن سے بھی ملاقات کی تھی۔اس کے بعد انھوں نے کہا کہ امریکی صدر روس کے ساتھ دونوں ملکوں کے مفاد میں اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ صدر ٹرمپ اور صدر پوتین دوطرفہ تعلقات میں ٹھوس نتائج چاہتے ہیں تاکہ ان سے ہمیں مسائل کے خاتمے اور بین الاقوامی ایجنڈے میں مدد ملے’’۔

لاروف کے امریکا کے اس دورے سے ایک روز قبل ہی صدر ٹرمپ نے وفاقی ادارہ تحقیقات (ایف بی آئی) کے سربراہ جیمز کومے کو اچانک برطرف کر دیا تھا۔وہ نومبر 2016ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کی وفاقی تحقیقات کی نگرانی کررہے تھے۔