.

’ایرانی نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والوں کو کچل دیں گے‘

پیش آئند صدارتی انتخابات میں پرتشدد مظاہروں کا خدشہ ہے: خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بدھ کے روز سیاسی مخالفین کو خبردار کیا کہ وہ ایرانی رجیم کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے سے گریز کریں ورنہ انہیں طاقت سے کچل دیا جائے گا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ رواں ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کی طرز پر ملک بھرمیں پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوسکتے ہیں۔ سنہ 2009ء میں اس وقت ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا تھا جب محمود نژاد دوسری بار ملک کے صدر منتخب ہوگئے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تہران میں پاسداران انقلاب کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب میں ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ’ملک کے امن وامان کا تحفظ فرض ہے۔ بد نظمی پھیلانے والے جانتے ہیں کہ گڑبڑ کی صورت میں انہیں کچل دیا جائے گا۔‘

ایرانی سپریم لیڈر نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے چھ امیدواروں پر زور دیا کہ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران اقلیتوں،غیر فارسی اقوام اور ان کے حقوق کی بات نہ کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران میں مختلف قومیتوں اور اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنا دشمن کے مفاد میں ہے۔

پاسداران انقلاب کی مقرب نیوز ایجنسی’تسنیم‘ کے مطابق سپریم لیڈر نے اپنے بیان میں کہا ’دشمن کی سازشوں کا مقصد ایران میں بدامنی پھیلانا ہے۔ ملک میں انارکی پھیلانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا‘تاہم انہوں نے ایران میں بدامنی پھیلانے والے دشمن کا نام نہیں لیا۔

سپریم لیڈر نے جبری نظربند اصلاح پسند رہ نماؤں مہدی کروبی، میر حسین موسوی، ان کی اہلیہ زہراء رھنورد کے بارے میں خبردار کیا کہ وہ ملک میں بد نظمی پھیلانے کا موجب بن سکتے ہیں۔ تینوں رہ نما سنہ 2009ء سے سپریم لیڈر کے حکم کے تحت گھروں میں نظر بند ہیں۔ ایرانی اصلاح پسند حلقوں کی کوششوں کےباوجود ان کی نظر بندی ختم نہیں کی جاسکی۔