.

ایران :قدامت پسند صدارتی امیدوار سخت گیر کے حق میں دستبردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں آیندہ جمعہ کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں میں شریک ایک قدامت پسند امیدوار محمد باقر قالیباف سخت گیر امیدوار ابراہیم رئیسی کے حق میں دستبردار ہوگئے ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق تہران کے میئر قالیباف نے ابراہیم رئیسی کی جیت کے امکانات بڑھانے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔ موخرالذکر امیدوار ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نزدیک سمجھے جاتے ہیں۔

قالیباف نے سوموار کے روز اپنی دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میرے تمام حامی میرے بھائی ابراہیم رئیسی کی کامیابی کے لیے بھرپور طریقے سے اور اپنی مکمل صلاحیتوں کے ساتھ کردار ادا کریں‘‘۔

ان کے انتخابی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد اب صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی تعداد پانچ رہ گئی ہے اور آیندہ چند روز میں مزید دو ایک امیدوار بھی دوسروں کے حق میں دستبردار ہوسکتے ہیں۔

باقر قالیباف تیسری مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔اس سے پہلے وہ 2005ء اور پھر 2013ء میں صدارتی امیدوار بنے تھے۔ وہ پہلی مرتبہ سخت گیر صدر محمود احمدی نژاد اور دوسری مرتبہ اعتدال پسند حسن روحانی کے حق میں دستبردار ہوگئے تھے۔

تہران کے مکین ان کی بطور میئر کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ ان سمیت حکام پر جنوری میں ایک تاریخی بلند وبالا عمارت میں آتش زدگی کے واقعے کے بعد سے غصے میں تھے۔ یہ عمارت آگ لگنے کے نتیجے میں منہدم ہوگئی تھی اور اس واقعے میں آگ بجھانے والے عملہ کے سولہ ارکان سمیت چھبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

باقر قالیباف کے انتخابی دوڑ سے باہر ہونے سے ابراہیم رئیسی کو صدر حسن روحانی کے مقابلے میں زیادہ ووٹ پڑ سکتے ہیں کیونکہ سخت گیر موجودہ صدر سے نالاں ہیں اور وہ ان پر رئیسی کو ترجیح دیں گے۔

بعض مبصرین نے یہ قیاس آرائی کی ہے کہ ابراہیم رئیسی کی جیت کی صورت میں قالیباف کو ان کی حکومت میں ملک کا نائب صدر بنایا جاسکتا ہے۔ یادرہے کہ ابراہیم رئیسی ایران کے سابق اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں اور وہ 1988ء میں ایران کے بدنام زمانہ ’’موت کمیشن‘‘ کے بھی رکن رہے تھے۔اس کمیشن نے ایرانی نظام کی مخالفت کرنے والے ہزاروں سیاسی قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکانے یا جبر وتشدد کے دوسرے طریقوں سے موت کی نیند سلانے کی منظوری دی تھی۔

ایرانی حزب اختلاف کے مطابق ایرانی حکام نے 1988ء میں ساڑھے تین ہزار سے پندرہ ہزار تک سیاسی قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکایا تھا۔ان میں سے اکثریت کا تعلق ایرانی حزب اختلاف کی جماعت مجاہدین خلق سے تھا۔

تاہم 56 سالہ ابراہیم رئیسی کے پاسداران انقلاب ایران ،سکیورٹی اداروں اور عدلیہ کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار ہیں۔انھیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی بھرپور حمایت حاصل ہے مگر وہ ایرانی عوام میں موت کمیشن سے تعلق کی بنا پر کوئی زیادہ مقبول نہیں ہیں۔اس وقت وہ ماہرین کی اسمبلی ،خصوصی علماء عدالت کے جنرل ڈپٹی اور آستانہ قدس رضوی کے متولی ہیں۔یہ مشہد میں ایک خود مختار خیراتی فاؤنڈیشن ہے۔