.

مصر چلا مغرب کی چال: تین سے زاید بچوں پر سزا کا قانون

’خاندانی منصوبہ بندی معاشی بحران کا واحد حل‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں بدترین اقتصادی بحران نے حکومت کو آبادی پر کنٹرول کرنے کے ایک نئے اقدام پر مجبور کیا ہے۔ مصری پارلیمان کی ایک خاتون رکن نے ایک نیا مسودہ قانون تیار کرنا شروع کیا ہے جس میں تین سے زاید بچے پیدا کرنے والے والدین کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے گی۔ اس کے علاوہ تین سے زاید بچے پیدا کرنے والے خاندانوں کو بچوں کی کفالت، تعلیم، علاج اور خوراک کے سلسلے سرکاری طور پر ملنے والی مراعات سے بھی محروم کردیا جائے گا۔

مصر میں تین بچوں کی پابندی کا قانون خاتون رکن پارلیمنت غادہ عجمی تیار کررہی ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا مجوزہ قانون چند روز میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پارلیمان ان کے تیار کردہ قانون کو اتفاق رائے سے منظور کرتے ہوئے ملک میں خاندانی منصوبہ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

انہوں نے کہا کہ تین سے زاید بچے پیدا کرنے والے والدین اپنے بچوں کے تمام اخراجات، ان کے علاج، تعلیم، خوراک اور دیگر مراعات میں حکومتی مدد سے محروم ہوجائیں گے۔

غادہ عجمی کا کہنا تھا کہ آبادی نے غیرمعمولی اضافے نے ترقیاتی ریونیو اور قومی پیداوار کا وافر حصہ ہڑپ کررکھا ہے۔ اقتصادی شرح نمو میں کمی کے ساتھ دوسری طرف آبادی 10 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ آبادی میں بے تحاشا اضافے نے ریاست کی آمدن اور اخراجات درہم برہم کر دیا ہے۔