.

فلسطینی صدر کا نوئیڈا آئی ٹی انسٹی ٹیوٹ سے بھارت کے دورے کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے سوموار سے بھارت کے تین روز ہ دورے کا آغاز کردیا ہے۔ ان کے اس دورے کا بڑا مقصد بھارت سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں مدد کا حصول ہے۔

وہ اتوار کی شب بھارتی دارالحکومت نئی دہلی پہنچے تھے۔ وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے مشرق وسطیٰ امن عمل کی بحالی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

محمود عباس نے آج سب سے پہلے دہلی کے نزدیک واقع شہر نوئیڈا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک انسٹی ٹیوٹ (سنٹر فار ڈویلپمنٹ آف ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ) کا دورہ کیا ہے۔ بھارت اس شعبے میں فلسطینی اتھارٹی کی مدد کررہا ہے تاکہ فلسطینیوں کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے جا سکے۔اس نے گذشتہ سال اکتوبر میں مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں آئی ٹی کے ایک مرکز کی تعمیر کے لیے ایک کروڑ بارہ لاکھ ڈالرز صرف کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

فلسطینی صدر اور ان کے وفد نے نوئیڈا میں مرکز برائے ترقی ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ میں قریباً دوگھنٹے گزارے ہیں اور وہاں حکام سے آئی ٹی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون سے متعلق بات چیت کی ہے۔وہ شام کے وقت نئی دہلی میں بھارت کے اسلامی ثقافتی مرکز میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کرنے والے تھے۔

مہمان صدر محمود عباس کے اعزاز میں منگل کو باضابطہ استقبالیہ تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوگی ۔اس کے بعد وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ، صدر پرنب مکھر جی اور وزیرخارجہ سشما سوراج سے الگ الگ ملاقات کریں گے۔

واضح رہے کہ فلسطینی صدر کے اس دورے سے دوماہ بعد نریندر مودی جولائی میں اسرائیل جائیں گے ۔یہ کسی بھارتی وزیراعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ ہوگا۔بھارت فلسطینی نصب العین اور فلسطینیوں کے لیے الگ ریاست کے قیام کے مطالبے کی حمایت کرتا چلا آرہا ہے۔اس نے اپنے قیام کے بعد ابتدائی برسوں میں صہیونی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی بحال نہیں کیے تھے لیکن حالیہ برسوں کے دوران میں اس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوا ہے اور وہ اس سے اسلحے کا ایک بڑا خریدار ملک بن چکا ہے۔