.

اسد نواز صحافیہ ‘جنیوا‘ میں یو این کے دفتر سے بے دخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اسد رجیم کے ترجمان سرکاری ٹی وی کی ایک خاتون پیش کار ربیٰ الحجلی کو اس وقت سخت شرمندی کا سامنا کرنا پڑا ہے اسے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفترسے نکال باہر کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی ٹی وی کی نامہ نگار اور ٹی وی اینکر ربیٰ الحجلی جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں ہونے والے مذاکرات کے دوران کوریج کے ساتھ ساتھ تحریری کلمات پیش کرنا چاہتی تھیں۔

بشارالاسد کے حامی صحافیوں کی طرف سے ربیٰ حجلی کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر سے بے دخل کئے جانے کی تصدیق کی گئی ہے تاہم سرکاری سطح پر یا ٹی وی چینل کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ البتہ سرکاری ٹی وی کے ایک عہدیدار مضر ابراہیم نے ’فیس بک‘ پر پوسٹ ایک بیان میں ربٰی الحجلی کی جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر سے بے دخل کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

شام کے سرکاری نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر سے بے دخلی کے بعد حجلی کو سوئٹرزلینڈ سے بھی بے دخل کردیا جائے گا۔ جنیوا مذاکرات میں شریک شامی حکومتی وفد کے مندوبین کی طرف سے بھی اس واقعے پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

خیال رہے کہ ربیٰ الحجلی کو شام کے سرکاری ٹی وی چینل کی اہم اینکر کہا جاتا ہے۔ وہ کئی بار حکومتی شخصیات کے انٹرویوز کرنے کے ساتھ ساتھ صدر بشار الاسد سے بھی ملاقاتیں کرچکی ہے۔