.

افغانستان : داعش نے سرکاری ٹیلی ویژن پر حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت پر خود کش بم حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار اور تین حملہ آور ہلاک اور سترہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے ننگر ہار کے گورنر کے دفتر کے نزدیک واقع افغانستان کے سرکاری نشریاتی ادارے کی عمارت پر حملہ کیا تھا اور اس کے بعد ان کے اور افغان سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

داعش کی خبررساں ایجنسی اعماق نے فوری پیغام رسانی کی سروس ٹیلی گرام کے ذریعے اس حملے کی اطلاع دی اور اس کی ذمے داری قبول کی ہے۔ طالبان نے اس حملے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

صوبائی گورنر کے ترجمان عطاء اللہ خوجیانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ کارروائی کے آغاز میں دو حملہ آوروں نے خود کو دھماکوں سے اڑا دیا تھا۔تیسرا سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرتا رہا تھا مگر اس کے بعد اس کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ سترہ زخمیوں میں سے نو کو ابتدائی طبی امداد کے بعد اسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستا ن میں داعش کا سربراہ عبدالحسیب اپریل کے آخر میں ننگرہار میں افغان اور امریکی فورسز کی ایک مشترکہ کارروائی میں مارا گیا تھا۔ داعش نے حالیہ مہینوں کے دوران میں دارالحکومت کابل میں بڑے حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔ان میں مارچ میں ایک فوجی اسپتال پر حملہ بھی شامل ہے۔