.

متنازعہ وڈیو: امریکا کی مسجد میں نمازیوں کی امام عورت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج سے دس برس پہلے جب Rabia Keeble نے اسلام قبول کیا تو اُس نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ مرد کے برابر عورت کی نماز ممکن ہو سکتی ہے۔ تاہم اب وہ کیلیفورنیا میں مسجد "قلبِ مریم" میں خود عورتوں اور مردوں کی باجماعت نماز کی امامت کرتی ہے۔

یہ بات معروف ہے کہ اسلام میں مرد اور خواتین علاحدہ نمازیں ادا کرتے ہیں۔ خواہ وہ کافی فاصلے سے ہوں یا پھر خواتین نماز کی جگہ مردوں کے پیچھے ہوں۔

رابعہ نے اسلام اور میسحیت کی مشترکہ علامت کے طور پر برکلے میں اپنی قائم کردہ مسجد کو یہ نام دیا۔

رابعہ کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی رواج اور اقدار کو مانتی ہے مگر وہ یہ نہیں چاہتی کہ امام کسی علاحدہ کمرے میں ہو۔

مذکورہ مسجد کا افتتاح اپریل میں ہوا۔ یہ کیلیفورنیا میں دوسری مسجد ہے جہاں خاتون امامت کرتی ہے۔ دو سال قبل لاس اینجلس میں بھی اسی نوعیت کی ایک مسجد کا افتتاح ہوا تھا تاہم وہ صرف خواتین کے لیے مخصوص ہے۔

گزشتہ جمعے کے روز مرد اور خواتین نے رابعہ کی مسجد میں ساتھ کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔

مصری نژاد سافٹ ویئر انجینئر حسام موسی کا کہنا ہے کہ وہ کھانے کے وقفے کے دوران اپنی گاڑی سے 22 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے سان فرانسسکو سے نماز جمعہ میں شرکت کے لیے پہنچا۔ حسام کے مطابق اب وہ اپنی گیارہ سالہ بیٹی کو بھی نماز میں شرکت کے لیے اس مسجد میں لے کر آیا کرے گا تا کہ وہ نماز ادا کرنے کے ساتھ مذہبی ثقافت سے بھی روشناس ہو سکے۔

ادھر پیدائشی طور پر مسلمان امریکی خاتون سلیمہ جونز کا کہنا ہے کہ خواتین اور مردوں کا علاحدگی کوئی مسئلہ نہیں مگر اس نئی مسجد کے خیال سے اُسے مسرت حاصل ہوئی ہے۔ سلیمہ جونز نے بھی اس مسجد میں نمازیوں کی امامت کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ " مجھے توقع نہیں تھی کہ ایک روز ایسا ہو جائے گا"۔

اگرچہ عبادت کا یہ طریقہ مسلمانوں کی اکثریت کے لیے ناقابلِ قبول ہے تاہم مسجد میں آنے والوں کے نزدیک وہ اس غیر روایتی طریقے کے ذریعے اللہ کے قریب ہو رہے ہیں۔