.

ایرانی مداخلت سے نمٹنے کے لیے امریکا خلیج کا دفاع مضبوط بنائے گا: ٹیلرسن

ایران دہشت گرد گروپوں کی ہر طرح کی مدد اور انھیں رقوم مہیا کرنے کا سلسلہ بند کردے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کی خطے میں مداخلت سے نمٹنے کی غرض سے خلیج کا دفاع مضبوط بنانے کے لیے کام کررہا ہے۔

انھوں نے یہ بات الریاض میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پر اپنے سعودی ہم منصب عادل الجبیر کے ساتھ ہفتے کے روز مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔

انھوں نے ایرانی صدر حسن روحانی کے دوبارہ انتخاب پر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروپوں کی ہر طرح کی مدد اور انھیں رقوم مہیا کرنے کا سلسلہ بند کردیں۔

ریکس ٹیلرسن نے کہا:’’ صدر حسن روحانی کے پاس اب موقع ہے کہ وہ ایران کے خطے میں موجود بد امنی اور عدم استحکام کی قوتوں کی حمایت کے کردار کا خاتمہ کردیں‘‘۔

انھوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا ہے کہ’’ ایران اپنے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کا سلسلہ بھی ختم کردے گا اور ایرانیوں کے آزادیِ اظہار اور اجتماع کی آزادی سے متعلق حقوق کو بحال کردے گا تاکہ ایرانی شہری بھی وہ زندگیاں گزار سکیں ،جس کے وہ حق دار ہیں‘‘۔

انھوں نے جمعہ کو ایران میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے اور نہ حسن روحانی کو دوبارہ منتخب ہونے پر مبارک باد دی ہے ۔انھوں نے صرف یہ کہا کہ ’’ اگر روحانی ایران کے باقی دنیا کے ساتھ تعلق کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو انھیں بیان کردہ مذکورہ اقدامات کو کرنا ہوگا‘‘۔