.

سعودی عرب اور امریکا کے درمیان اقتصادی شراکت داری کی 8 دہائیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور امریکا کے درمیان گزشتہ 8 دہائیوں سے مضبوط اقتصادی تعلقات قائم ہیں۔ اسی سلسلے میں حالیہ معاہدوں سے دونوں ملکوں کے درمیان معیشت ، ٹکنالوجی اور صنعت کے میدانوں میں تعاون وسیع تر ہو گا۔

تجارت کو سعودی امریکی تعلقات کے نمایاں ترین چینلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

سال 2016 میں سعودی عرب نے امریکا سے تقریبا 18 ارب ڈالر کی اشیاء درآمد کیں۔ عالمی بینک کے مطابق 2015 میں سعودی عرب کو اشیاء درآمد کرنے والے ممالک میں امریکا کا دوسرا نمبر تھا۔ اُس سال سعودی عرب کی مجموعی درآمدات میں امریکا کا حصہ تقریبا 13.5% رہا۔

اس کے 2016 میں امریکا نے سعودی عرب سے تقریبا 17 ارب ڈالر کی اشیاء درآمد کیں۔ 2015 میں امریکا کی مجموعی درآمدات میں سعودی عرب سے آنے والی اشیاء کا حصہ 10% تھا۔ اُس سال امریکی درآمدات میں چین کا حصہ 13.2% اور جاپان کا 10.99% رہا۔

سرمایہ کاری کے حوالے سے بات کی جائے تو اس شعبے میں دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلق کا آغاز 1932ء میں تیل نکالنے کے حقوق پیش کرنے کے بعد سے ہوا۔

اُس وقت کے بعد سے امریکا نے اپنی سرمایہ کاری میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھا اور 2003 سے 2015 تک وہ مملکت میں سرمایہ کاری میں سرِ فہرست رہا۔ اس عرصے کے دوران سعودی عرب میں آنے والی براہ راست سرمایہ کاری میں امریکا کا حصہ 13.7% اور مالیت 40 ارب ڈالر کے قریب تھی۔

سعودی عرب امریکی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع یقینی بنانے اور انہیں سہولتیں پیش کرنے کی غرض سے کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد شراکت داریوں کو مضبوط بنانا اور مملکت میں براہ راست سرمایہ کاری میں شرکت کا دروازہ کھولنا ہے۔