.

امریکا اور سعودی عرب میں 2 کھرب 80 ارب ڈالر کے معاہدے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور امریکا سربراہ کانفرنس کے دوران گذشتہ روز دارالحکومت ریاض میں قصر یمامہ میں دو کھرب 80 ارب ڈالر کے دو طرفہ تجارتی اور دفاعی معاہدوں کی منظوری دی گئی۔ ان معاہدوں سے ہزاروں نئی ملازمتیں تخلیق کرنے کا موقع ملے گا۔ گزشتہ روز امریکا اور سعودی عرب کے درمیان طے پائے اسٹریٹیجک پارٹبر شپ معاہدے کے اثرات آئندہ سالوں کے دوران ظاہر ہونا شرو ہوجائیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان معاہدوں کی منظوری کے وقت سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ موجود تھے۔ ان کی موجودگی میں دونوں ملکوں کے عہدیداروں اور کمپنیوں کے سربراہان نے دفاعی، تجارتی، توانائی اور پیٹروکیمیکل سمیت دسیوں منصوبوں کی منظوری دی گئی۔

سعودی تیل کمپنی ارامکو اور امریکی کمپنیوں کے درمیان طے پائے معاہدے کے تحت امریکا سعودی عرب میں پیٹرو کیمیکل کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے گا جب کہ ارامکو امریکا میں ایتھیلین کارخانہ قائم کرے گا۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں میں طے پائے معاہدوں میں بریڈیکس سسٹم کے تحت صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے سرمایہ کاری شامل ہے۔

جنرل الیکٹرک اور ’ جی ای ھشام باھکالی‘ کے درمیان توانائی اور بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ طے پایا۔ دونوں ملکوں کے درمیان صحت، تعلیم، اور دفاعی شعبوں میں کئی یاداشتوں کی منظوری دی گئی۔ فضائی ٹرانسپورٹ، طیاروں کی خریداری اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے کئی معاہدوں کی منظوری دی گئی۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ روز اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمرہ سعودی عرب کے دو روزہ دورے پر ریاض پہنچے تھے جہاں دونوں ملکوں نے ایک سو دس ارب ڈالر کے دفاعی معاہدوں کی بھی منظوری دی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ آج اتوار کو خلیجی سربراہ قیادت اور مسلمان ملکوں کی قیادت سے بھی ملاقات کریں گے۔