.

پاسداران انقلاب خطے میں امن واستحکام کا ضامن ہے:روحانی

دوسری بار صدرمنتخب ہونے پر روحانی ’ٹیون‘ بدل گئی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں جمعہ کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات میں دوسری بار ملک کے صدر منتخب ہونے والے حسن روحانی نے اپنی کامیابی کے اعلان کےبعد کہا ہے کہ پاسداران انقلاب خطے میں امن واستحکام کا ضامن ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہفتے کی شام سرکاری ٹیلی ویژن کے ذریعے قوم سے خطاب کرتے ہوئے حسن روحانی نے کہا کہ ہمیں اپنی مسلح افواج، پاسداران انقلاب، باسیج فورس اور دیگر سیکیورٹی اداروں پر فخر ہے۔ ہم پاسداران انقلاب کو خطے میں امن وامان، استحکام اور ایران قوم کی فلاح بہبود کا ضامن ادارہ تسلیم کرتے ہیں۔

نو منتخب صدر حسن روحانی نے مزید کہا کہ موجودہ صدارتی انتخابات نے ملک کو جمود اور شکوک سے نکال کرمسلسل ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔

دہشت گردی اور مداخلت

ایرانی صدر حسن روحانی کی جانب سے پاسداران انقلاب کی تعریف وتوصیف ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری جانب ایرانی رجیم اپنی سرحدوں سے باہر دہشت گردی کے فروغ اور عرب ملکوں میں مداخلت کی پالیسی پر گامزن ہے۔

بائیس اپریل کو ایرانی فوج کے ایک سینیر عہدیدار جنرل حسن سلامی نے کہا تھا کہ ان کا ملک اپنی سرحدوں سے باہر لڑنے والی اسلامی مزاحمتی گروپوں کی حمایت اور مدد جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ بیان پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کی تجویز اور مطالبات کے جواب میں دیا۔

رواں سال صدر حسن روحانی نے پاسدارانقلاب کے بجٹ میں 24 فی صد اضافہ کرتے ہوئے دفاعی بجٹ 14 ارب ڈالر تک پہنچا دیا۔ یوں ملک کے کل بجٹ کا 53 فی صد بجٹ صرف پاسداران انقلاب کے لیے ہے۔

روحانی کی دوسری بار کامیابی

خیال رہے کہ جمعہ کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات میں اصلاح پسند صدر حسن روحانی دوسری بار ملک کے صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 23 ملین، 5 لاکھ 49ہزار 616 ووٹ لیے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 57 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

ایرانی وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق صدارتی انتخابات میں ٹرن آؤٹ 70 فی صدرہا، مجموعی طور پر 41 ملین افراد نے پولنگ میں حصہ لیا۔ سرکاری طور پر ایران میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 1 کروڑ، 12 لاکھ، 20 ہزار 131 بتائی جاتی ہے۔ سپریم لیڈر کے مقرب ابراہیم رئیسی دوسرے نمبر پر رہے۔

شکست خوردہ امیدواروں میں مصطفیٰ میر سلیم نے چار لاکھ 47 ہزار 215 اور مصطفیٰ ھاشمی طبا 2 لاکھ 15 ہزار 450 ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔