.

روحانی نے بالواسطہ طور پر ایران کے تخریبی کردار کا اعتراف کر لیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے بغیر مشرق وسطیٰ میں دیر پا امن کا قیام ناممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں امن وامان کے لیے تہران اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دوسری بار صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر روحانی نے کہا "کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے بغیر وہ خطے میں استحکام لے آئیں گے وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ایران کے بغیر وہ خطے میں امن قائم نہیں کرسکتے۔"

حسن روحانی کا یہ بیان تہران کی خطے میں تخریبی سرگرمیوں کا ایک بالواسطہ اعتراف ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ایرانی صدر نے کہا کہ وہ بیلسٹک میزائل تجربات جاری رکھیں گے کیونکہ ان کا مقصد ایران کا دفاع مضبوط بنانا ہے۔

ایران میں جمعہ کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات اور ان میں اپنی دوسری بار کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایرانی قوم ملک میں مزید جمہوریت اورعالمی برادری سے گرم جوش تعلقات چاہتی ہے۔ ایران کو اقتصادی طور پر مضبوط ہونے کے لیے عالمی سطح پر تعلقات کو مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے حریف امیدوار ابراہیم رئیسی کی شکست دنیا کے لیے پیغام ہے کہ تہران عالمی برادری سے ہم آہنگ ہے۔