.

شام میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا : فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔اس نے اس بات کا بھی اشارہ دیا ہے کہ شامی تنازعے سے متعلق نئے صدر عمانو ایل ماکروں کے دورِ حکومت میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لائی جارہی ہے۔

پان عرب روزنامے الحیات نے اپنی سوموار کی اشاعت میں صدر ماکروں کے قریبی سیاسی ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ نئے صدر سنہ 2012ء سے دمشق میں فرانسیسی سفارت خانے کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کررہے ہیں۔

لیکن وزارت خارجہ کے ترجمان رومین ندال نے اپنی روزانہ کی بریفنگ کے دوران میں واضح کیا ہے کہ ’’ دمشق میں سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ فی الوقت ایجنڈے میں شامل نہیں ہے‘‘۔

واضح رہے کہ عمانو ایل ماکروں بہ ذات خود بھی لبنانی دارالحکومت بیروت کے جنوری میں انتخابی مہم کے سلسلے میں دورے کے موقع پر دمشق میں سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کو خارج از امکان قرار دے چکے ہیں۔ انھوں نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حالیہ حملے کے بعد کہا تھا کہ اس کے ذمے داروں کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔

بعض یورپی ممالک نے کچھ عرصہ قبل داعش کے خلاف جاری جنگ کے دوران میں دمشق حکومت کے ساتھ روابط بڑھانے کا اشارہ دیا تھا لیکن فرانس اور برطانیہ نے اس کی مخالفت کی تھی۔ یادرہے کہ شام میں خانہ جنگی کے شدت پکڑنے کے بعد بہت سے یورپی ممالک نے دمشق سے اپنے سفارت کاروں کو واپس بلا لیا تھا اور سفارت خانے بند کردیے تھے۔

فرانس کے سابق صدر نیکولا سارکوزی نے مارچ 2012ء میں دمشق میں اپنا سفارت خانہ بند کردیا تھا۔ان کے بعد آنے والے صدر فرانسو اولاند نے بھی اس پالیسی کو برقرار رکھا تھا۔ان کے دور حکومت میں فرانس شامی صدر بشار الاسد کے مخالفین کی حمایت کرتا رہا تھا اور صدر اولاند نے کہا تھا کہ بشارالاسد کا شام کے سیاسی مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔