.

ایران نے تیسری زیر زمین بیلسٹک میزائل فیکٹری تعمیر کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرا ن نے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے لیے اپنی تیسری زیر زمین فیکٹری تعمیر کر لی ہے اور و ہ اپنے میزائل پروگرام کی ترقی کا کام جاری رکھے گا۔

پاسداران انقلاب ایران کے ایک سینیر کمانڈر اور ائیر سپیس ڈویژن کے سربراہ امیر علی حاجی زادہ نے نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس سے جمعرات کے روز گفتگو کرتے ہوئے اس نئی زیر زمین فیکٹری کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ پاسداران انقلاب نے اس کو حالیہ برسوں کے دوران میں تعمیر کیا ہے اور یہاں بیلسٹک میزائل تیار کیے جارہے ہیں۔

ایران کی جانب سے اس اعلان کے بعد اس کی امریکا کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے ۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلےغیر ملکی دورے کے موقع پر مختلف تقاریر اور گفتگوؤں میں ایران کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس پردہشت گرد گروپوں کی حمایت کا الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے جنوری میں منصب ِصدارت سنبھالنے کے بعد ایران پر نئی پابندیاں عاید کردی تھیں۔انھوں نے یہ اقدام ایران کی جانب سے حالیہ میزائل تجربات کے ردعمل میں کیا تھا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر کے بیانات اور پابندیوں کے ردعمل میں سوموار کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ ایران کو میزائل تجربات کے لیے امریکا سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

امیر علی حاجی زادہ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے: ’’ یہ ایک فطری بات ہے کہ ہمارے دشمن امریکا اور صہیونی رجیم ( اسرائیل) ہمارے میزائل پروگرام پر غیظ وغضب کا شکار ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران ایک کمزور پوزیشن میں رہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ ہم اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے علاوہ میزائلوں کے تجربات اور ان کی تیاری کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ آیندہ ہم زمین سے زمین پر مار کرنے والا میزائل تیار کریں گے ‘‘۔لیکن انھوں نے اس کی مزید کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔