.

قطر اور ایران میں سکیورٹی اور عسکری تعاون کی تفصیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ممالک میں ایران کی مبینہ مداخلت کے باوجود قطر اور ایران کے درمیان دوستانہ تعلقات بھی اپنے نقطہ عروج پر رہے ہیں۔ حالانکہ شام کے معاملے میں دونوں ملکوں کےدرمیان ظاہری اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

دو روز قبل امیر قطر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی جانب سے سامنے آنے والا بیان، جس میں انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کو ایک قابل ذکر علاقائی طاقت قرار دیا، سے ان رپورٹس کو تقویت ملتی ہے جن میں دونوں ملکوں کے سکیورٹی اور عسکری تعاون کی تفصیلات بیان کی جاتی رہی ہیں۔ تہران اور خلیجی ملکوں کے درمیان کشیدگی کے باوجود ایران اور قطر کے درمیان سیکیورٹی کے شعبوں میں کسی نا کسی شکل میں تعاون برقرار رہاہے۔

تہران اور دوحہ کے درمیان تعلقات کی تاریخ

ایران میں سنہ 1979ء کے انقلاب کے بعد تہران نے خطے کےممالک کے سیاسی نظام کو تل پٹ کرنے کا نعرہ اختیار کیا۔ اس نعرے کو آگے بڑھانے کے لیے ان ملکوں کے مغرب اور ’شیطان اکبر‘ (امریکا) کے ساتھ تعلقات کو بنیاد بنایا گیا۔ اس موقع پر دوحہ نے ایک طرف تو ایرانی رجیم سے تعلقات استوار رکھے اور ساتھ ہی وہ مغرب دوستانہ تعلقات کی کشتی پر بھی سوار رہا۔

قطر اور سعودی عرب کے سرحدی تنازعات کے معاملے میں تہران نے دوحہ کا ساتھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ سابق امیر قطر نے مئی 1992ء میں اس وقت کے ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی کو سعودی عرب کے ساتھ اختلافات میں دوحہ کی حمایت کرنے پر انہیں شکریے کا ایک خط بھی لکھا۔

بہ ظاہر ایران قطر کے ساتھ سیاسی ، سکیورٹی، اقتصادی اور دیگرتمام سطحوں پر تعاون کو مزید گہرا کرنےکے لیے کوشاں رہا ہے مگر اس کوشش کے در پردہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ملکوں میں اپنے پاؤں جمانے کے محرکات کار فرما رہے ہیں۔

خلیج سربراہ کانفرنس میں ایرانی صدر کو شرکت کی دعوت

قطر اور ایران کےدرمیان قُربت کے حوالے سے سابق ایرانی صدر محمد خاتمی کے دور میں مئی 1999ء میں ایک نمایاں پیش رفت اس وقت ہوئی جب ایران نے قطر کی میزبانی میں اسلامی سربراہ کانفرنس کی حمایت کی۔

ایران میں محمود احمدی نژاد کے صدرمنتخب ہونے کے بعد دونوں ملکوں میں تعلقات ایک نئے موڑ میں داخل ہوئے جب قطر نے سنہ 2007ء میں محمود احمدی نژاد کو خلیج سربراہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت پیش کی۔

ایران نے جوہری سرگرمیوں کا آغاز کیا تو تمام عرب بالعموم اور خلیجی ممالک نے بالخصوص اس پر تشویش کا اظہار کیا۔ عرب ممالک نے عالمی برادری سے ایران کے متنازع ایٹمی پروگرام کے حوالے سے سخت موقف میں اپنانے کا مطالبہ کیا مگرقطرنے ہمیشہ ایران کے جوہری پروگرام پر عرب برادری کے اجتماعی موقف سے ہٹ کر موقف اپنایا۔ سنہ 2006ء میں قطر سلامتی کونسل کا واحد رکن تھا جس نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف پیش کردہ قرار داد 1696 کی مخالفت کی۔ حالانکہ اس قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مزید شفافیت کا مظاہرہ کرے۔

قطر اور ایران کا اخوان المسلمون کے بارے میں بھی موقف ایک رہا۔ مصر میں اخوان المسلمون، لبنان کی حزب اللہ اور فلسطین کی حماس کو ایران اور قطر دونوں نے ہرممکن معاونت فراہم کی۔

سکیورٹی اورعسکری تعاون کی تفاصیل

ایران اور قطر کے درمیان سکیورٹی اور عسکری شعبوں میں تعاون بھی غیرمعمولی رہا ہے۔ اکتوبر2015ء میں دونوں ملکوں نے انسداد دہشت گردی اور خطے میں امن کی راہ میں مخل ہونے والے عناصر کے خلاف کارروائی کا جامع معاہدہ طے پایا۔

اکتوبر 2015ء میں اس معاہدے کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار قاسم رضائی نے قطر کی ساحلی سیکیورٹی کے ڈائریکٹر علی احمد سیف البدید سے ملاقات کی۔

دونوں ملکوں کےدرمیان اس معاہدے کے تحت مشترکہ سرحدوں کے دفاع کے لیے مل کر اقدامات کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ معاہدے سے قبل 2015ء میں ان کے 12 اہم اجلاس منعقد ہوئے۔

ایران اور قطر کےدرمیان معاہدے کےبعد مبصرین کی طرف سے یہ کہا جانے لگا کہ دوحہ کے اقدامات بالخصوص اس کی تہران کی طرف قربت خلیج تعاون کونسل سے نکلنے کی کوشش ہے۔

اکتوبر2015ء میں طے پائے دو طرفہ معاہدے سے چند برس قبل 23 دسمبر 2010ء کو سابق امیر قطر نے ایران کا دورہ کیا جہاں انھوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھی دونوں ملکوں نے دو طرفہ سیکیورٹی تعاون کے فروغ سے اتفاق کیا۔

دونوں رہ نماؤں میں ایرانی پاسداران انقلاب اور قطری فوج کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کا ایک معاہدہ بھی طے پایا۔

سابق امیر قطر کے دورہ ایران کے بعد ایرانی نیول چیف ایڈمرل محمد ھشیاری کے قیادت میں ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد نے قطر کا دورہ کیا۔ ایرانی وفد کے ساتھ قطری بحریہ کے ڈپٹی کمانڈنٹ عبدالرحمان السلیطی نے مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات کے بعد نیول فورسز کی سطح پر تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ایران کو بہ خوبی اندازہ ہے کہ خطے میں پھیلے مسلح گروپوں پر قطر کا گہرا اثرو نفوذ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے بھی اپنی فرقہ وارانہ ملیشیا کو خطے میں پھیلانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ایران اور قطر کے ہمنوا عسکری گروپ دونوں ملکوں کے مفادات کے پیش نظر ایک دوسرے کے خلاف تصادم سے گریز کریں۔

اس کی ایک مثال لبنان کے علاقے عرسال پر سنہ 2013ء کو النصرہ فرنٹ کے عسکریت پسندوں کا قبضہ کرتے ہوئے لبنانی فوج کے اہلکاروں اور حزب اللہ جنگجوؤں کے اغواء اور قطر کی مداخلت سے مغویوں کی بازیابی سے بھی لی جاسکتی ہے۔ قطر نے لبنانی شیعہ ملیشیا، فوج، حزب اللہ اور النصرہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا اور دونوں طرف سے گرفتار افراد کو رہا کروایا۔

مشترکہ اقتصادی مفادات

ایران اور قطر کے درمیان جہاں سیاسی اور سیکیورٹی کی سطح پر باہمی تعاون کار فرما رہا وہیں دونوں ملک اقتصادی میدانوں میں بھی ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ رہے ہیں۔ خلیجی پانیوں میں گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے ایران اور قطر نے باہمی تعاون کے تحت کام کرنے کا اعلان کیا۔ اس طرح اس منصوبے کے لیے ایران کی سرمایہ کاری کا باب کھلا۔

قطر کی طرف سے سمندر میں گیس فیلڈ کے لیے 9700 مربع کلو میٹر کا رقبہ مختص کیا گیا۔ اس میں سے 6000 مربع کلو میٹر رقبے پر قطر اور 3700 مربع کلو میٹر علاقے پر ایران کو کام کرنا تھا۔

اس معاہدے کے علاوہ بھی قطر نے ایران کے لیے اپنے ہاں سرمایہ کاری کے راستے کھولے۔ سنہ 1991ء میں دونوں ملکوں کےدرمیان فضائی نقل وحمل، ٹیکنیکل تعاون، سائنس، ثقافت اور تعلیمی شعبوں میں تعاون کے معاہدے طے پائے تھے۔