.

مانچسٹر بم حملہ:خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی شہر مانچسٹر میں خودکش بم دھماکے کی تحقیقات سے متعلق معلومات کو افشا کرنے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے ذمے دار امریکیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے محکمہ انصاف اور دوسری ایجنسیوں کو خفیہ معلومات کے افشا کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے اور اس کو اپنی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ حکومتی اداروں نے مبینہ طور پر یہ معلومات افشا کی ہیں اور یہ حرکت بہت ہی پریشان کن ہے۔اگر مناسب ہے تو اس کے ذمے داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے ۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان خصوصی تعلقات استوار ہیں اور ان سے زیادہ اہمیت کا حامل کوئی تعلق نہیں ہے۔

قبل ازیں ایک برطانوی عہدہ دار نے کہا تھا کہ مانچسٹر میں خودکش بم دھماکے کی تحقیقات پر مامور پولیس امریکا کے ساتھ اس وقت تک معلومات کا کوئی تبادلہ نہیں کرے گی جب تک اس کی جانب سے یہ یقین دہانی نہیں کرا دی جاتی کہ ان معلومات کو میڈیا کے لیے جاری نہیں کیا جائے گا۔

اس عہدہ دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ امریکیوں کی جانب سے معلومات کے افشا کے باوجود تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ برطانوی وزیراعظم تھریز ا مے جمعرات کے روز برسلز میں امریکی صدر سے ملاقات میں اس معاملے پر بات کرنے والی تھیں۔

برطانوی حکام نے نیویارک ٹائمز میں مانچسٹر میں خودکش حملے میں استعمال کیے گئے بم کی تصاویر کی اشاعت پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ان تصاویر میں اس بم کی تفصیل ظاہر کی گئی ہے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ نیو یارک ٹائمز نے یہ تصاویر کہاں سے حاصل کی تھیں۔مانچسٹر پولیس نے ان تصاویر کی اشاعت کے بعد کہا ہے کہ اس سے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں کو تکلیف پہنچی ہے۔