.

"حوثیوں نے امدادی سامان کے 63 جہاز اور 550 قافلے لوٹ لئے"

یو این نے یمن میں ہیضہ کے پھیلاؤ کی وارننگ جاری کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں مقامی انتظامیہ کے نائب وزیر عبدالسلام باعبود نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کے ہمنوا جنگجوؤں نے یمنی عوام کے لئے بھجوائے جانے والے امدادی سامان کے 63 بحری جہاز اور 550 امدادی کانوائے لوٹ لئے ہیں۔

"بھوک اور غربت حوثی مںصوبہ" کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے باعبود نے واضح کیا کہ حوثی باغیوں کی کارروائیوں سے تقریباً 20 ملین یمنی شہری امداد کے لئے ترس رہے ہیں جبکہ 24 ملین شہری طبی ضروریات کے شدید محتاج ہیں۔

علی عبداللہ صالح کے ہمنوا جنگجوؤں اور حوثی باغیوں نے صرف یمنی شہریوں کو بھوک اور ننگ کا شکار بنا کر ان کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار نہیں کیا۔ انہوں نے یمنی شہریوں کو تقریباً آٹھ مہینوں سے تنخواہوں سے محروم کر رکھا ہے۔ یمنی حکومت کا تختہ الٹنے والے انہی انقلابیوں نے وہ تمام امدادی سامان بھی لوٹ لیا ہے جسے دنیا کے مختلف علاقوں سے نہتے اور بے گناہ یمنی عوام کے مسائل کم کرنے کے لئے بھجوایا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے بھوک، ہیضہ اور تنازعات نے یمن میں ایک ہلاکت خیز تکون بنا رکھی ہے۔ عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ہیضہ یمن کے طول وعرض میں ریکارڈ رفتار سے پھیل سکتا ہے۔ یمن میں یو این کے ہیلتھ کوارڈنیٹر مارک گولڈریک نے بتایا کہ انسانیت کی مددگار انجمنوں کو اگلے چھ مہینوں تک ہیضہ کا علاج کرنے کے لئے کم سے کم 55 ملین ڈالر امداد درکار ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے عالمی ادارے کے رکن ملکوں سے اپیل کی ہے کہ یمن میں انسانیت کو لاحق ہونے والے سنگین نوعیت کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ مالی اور سیاسی تعاون پیش کریں۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کم سے کم ساڑھے تین لاکھ افراد ہیضہ سے متاثر ہوئے جن میں آدھی تعداد بچوں کی تھی۔ یمن کے 19 شہروں میں ہیضہ کے مرض میں مبتلا 370 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔