.

نیٹو اتحاد داعش مخالف جنگ میں شامل ہو جائےگا: جینزاسٹولٹنبرگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو )کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے کہا ہے کہ ان کا فوجی اتحاد امریکا کی قیادت میں داعش مخالف جنگ میں شامل ہوجائے گا۔

انھوں نے برسلز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جمعرات کے روز ملاقات سے قبل کہا ہے کہ ’’ اس سے نیٹو کے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے عزم کا ایک مضبوط سیاسی پیغام جائے گا‘‘۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ’’ اس کا یہ مطلب نہیں کہ نیٹو عراق اور شام میں داعش یا دوسرے اسلامی دہشت گرد گروپوں کے خلاف جنگ میں ایک لڑاکا کردار ادا کرے گی‘‘۔

امریکی صدر اپنے پہلے غیرملکی دورے پر بدھ کو برسلز پہنچے تھے۔وہ نیٹو اتحادیوں پر مزید فعال کردار ادا کرنے پر زور دیں گے۔وہ پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ سرد جنگ کے زمانے کا اتحاد اب ازکار رفتہ ہوچکا ہے کیونکہ وہ اسلامی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کچھ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انھوں نے برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں سوموار کی شب تباہ کن بم حملے کے بعد کہا تھا کہ ہمیں ایک خوف ناک خطرہ درپیش ہے اور ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جیتنا ہوگا۔
.
واضح رہے کہ نیٹو کے رکن اٹھائیس ممالک داعش کے خلاف جنگ میں انفرادی حیثیت میں شریک ہیں لیکن نیٹو تنظیم کے طور پر اس جنگ میں شامل نہیں ہے جبکہ امریکا کا اس پر اس مقصد کے لیے سخت دباؤ رہا ہے۔اس وقت امریکا کی قیادت میں ساٹھ سے زیادہ ممالک داعش کے خلاف عراق اور شام میں لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق تنظیم کے بعض رکن ممالک فرانس ، جرمنی اور اٹلی وغیرہ اتحاد کی داعش کے خلاف جنگ میں شمولیت کی مخالفت کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورت میں شام میں زمینی دستے بھیجنا پڑ سکتے ہیں اور اس طرح نیٹو کے عرب اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر فرق پڑ سکتا ہے۔تاہم نیٹو کے ذرائع نے اے ایف پی کو بدھ کے روز بتایا تھا کہ ان تحفظات کو دور کردیا گیا ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ داعش مخالف کارروائیوں کی معاونت کے لیے فضائی نگرانی کرنے والے طیاروں اواکس کے کردار کو بڑھایا جائے گا اور عراق میں تربیتی پروگراموں میں تیزی لائی جائے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹرز میں ایک خصوصی سیل قائم کیا جائے گا جو دہشت گردی مخالف سراغرسانی اور منصوبہ بندی میں رابطہ کار کا کردار ادا کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اتحاد میں شامل ممالک اپنے اپنے حصے کا سکیورٹی بوجھ بٹائیں گے اور سالانہ مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی) کا دو فی صد دفاع پر خرچ کریں گے۔