.

ایران کو سزا دینے کا نیا بل امریکی سینٹ سے منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینٹ نے ایران کے متنازع بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں مداخلت، عدم استحکام، انسانی حقوق کی پامالیوں اور دہشت گردی کی حمایت پر ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی منظوری دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بین الاقوامی دہشت گردی کی حمایت اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے معاملے پر سینیٹ کے ایک پینل نے اکثریت رائے سے ایران کے خلاف نئی امریکی تعزیرات کی منظوری دی ہے۔

ایران کے ساتھ تاریخی جوہری سمجھوتے کے نفاذ کے بعد یہ پہلا اقدام ہوگا، جس کا مقصد ایران کو سزا دینا ہے۔

جمعرات کو سینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی نے مجوزہ بِل پر رائے دہی کے دوران، اس کے حق میں 18 جب کہ مخالفت میں تین ووٹ دیے، جس سے ہی چند روز قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور سنی عرب ملکوں کے ساتھ یکساں مقصد کے حصول کا عہد کیا، تاکہ خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کا تدارک کیا جا سکے۔

خیال رہےکہ 14 اپریل کو امریکی سینٹ میں ایک نیا بل پیش کیا گیا تھا جس میں ایرانی پاسداران انقلاب کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی بناء پر اس کے ساتھ تعاون کرنے والے تمام افراد اور اداروں پر پابندیاں عاید کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

کمیٹی کے سربراہ، ٹینیسی سے تعلق رکھنے والے ری پبلیکن پارٹی کے سینیٹر، باب کورکر نے کہا کہ ’’(کمیٹی نے) اکثریتی رائے سے بِل کی منظوری دی، اور میں سمجھتا ہوں کہ اسے سینیٹ کے ایوان سے بھی اکثریت سے منظوری حاصل ہو جائے گی‘‘۔

کورکر نے مزید کہا کہ ’’اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے بعد یہ کیا ہوا، تو اس کا تعلق مشرق وسطیٰ کی حکمت عملی کے رابطے کی ابتدا سے ہے، تاکہ خطے میں ایران کی جارحیت کو روکا جاسکے۔ اس اقدام کا مقصد ایران کی شرارتی عزائم پر مبنی جارحیت کا انسداد کرنا ہے، جن میں ایران ملوث رہا ہے‘‘۔