.

جی - 7 سربراہ اجلاس: دہشت گردی کے خلاف محاذ ایجنڈے میں سرِ فہرست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹلی کے خود مختار علاقے سِسلی کے شہر Taormina میں دنیا کے سات بڑے صنعتی ممالک کے گروپ (جی سیون) کا دو روزہ سربراہ اجلاس شروع ہو گیا۔ اجلاس کے شرکاء دہشت گردی کے خلاف ایک متحد محاذ قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاہم غالب گمان ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی تجارت سے متعلق اسی نوعیت کے اقدام کو یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

اطالوی حکومت کے سربراہ پاؤلو جینٹیلونی جن کا ملک اس وقت گروپ کی صدارت انجام دے رہا ہے.. انہوں نے جمعرات کے روز کہا کہ "بات چیت آسان نہیں ہو گی"۔ برسلز میں نیٹو کے سربراہ اجلاس کے ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے جینٹیلونی نے وعدہ کیا کہ وہ نقطہ ہائے نظر کو قریب لانے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے تا کہ یہ نئی ملاقات ایک "فائدے مند" اجلاس میں تبدیل ہو سکے۔

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے اجلاس کے شرکاء کے سامنے انسداد دہشت گردی کی مہم جاری رکھنے کو باور کرائیں گی۔ بالخصوص مانچسٹر میں پیر کے روز ہونے والے حملے کے بعد جس کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک اور 64 زخمی ہو گئے تھے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بچوں کی بڑی تعداد ہے۔ ٹریزا مے اس امر کا بھی مطالبہ کریں گی کہ انٹرنیٹ کے بڑے مجموعے اپنے مواد سے شدت پسندی پر مبنی متن کو حذف کرنے کے لیے مزید کوششیں کریں۔

اٹلی کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کے تحت جی سیون گروپ کے ممالک انسداد دہشت گردی کے حوالے سے مشترکہ اعلان کریں گے۔

ادھر فرانسیسی صدر امانوئل ماکروں کے گرد موجود ذرائع نے بدھ کے روز بتایا کہ ماحولیاتی تبدیل کا معاملہ جس کے متعلق ایک واضح موقف کے اعلان کو امریکی صدر مسترد کرتے ہیں.. یہ معاملہ "پیچیدہ ترین ہوگا"۔

البتہ یہ امر فرانس ، اٹلی اور جرمنی سمیت بعض ممالک کو ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے پر توجہ دینے سے روک نہیں سکے گا۔ فرانسیسی ایوان صدارت کے مطابق تمام یورپی سفارت کاری امریکا کو ماحولیات کے حوالے سے " اسی رجحان کی سمت" لے کر آنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آخری موضوع جو سربراہ اجلاس کا محور ہوگا وہ عالمی تجارت اور تجارت کی عالمی تنظیم کا کردار ہے۔ اس حوالے سے امریکا اپنے موقف پر نظر ثانی چاہتا ہے جب کہ فرانس "تکثیری نظام کے دفاع کے حوالے سے انتہا درجے تک عزم کے حامل" کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔