.

دو امریکی مسلم خواتین کو نسل پرستانہ حملے سے بچاتے جان سے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ریاست اوریگن میں ایک ٹرین میں سفر کے دوران میں نسل پرستانہ انتہا پسندی کا بدترین واقعہ پیش آیا ہے اور مجرمانہ ذہنیت کے حامل ایک انتہا پسند امریکی نے دو مسلم خواتین پر آوازے کسنے سے روکنے پر دو اور امریکی شہریوں کو چاقو کے پے درپے وار کرکے قتل کردیا ہے۔

واقعات کے مطابق قاتل امریکی ایک مسافر ٹرین میں سوار دو مسلم خواتین پر نسل پرستی پر مبنی آوازے کس رہا تھا اور انھیں ہراساں کررہا تھا۔ان میں سے ایک خاتون نےمسلم سرپوش اوڑھ رکھا تھا۔

اس انتہا پسند امریکی کو جب دو مسافروں نے روکنے کی کوشش کی اور اس کو اس کی اس نیچ حرکت پر خبردار کیا تو وہ آپے سے باہر ہوگیا اور اس نے ان دونوں پر چاقو کے پے درپے وار شروع کردیے۔ان میں سے ایک امریکی ٹرین ہی میں دم توڑ گیا اور دوسرا اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا ہے۔ چاقو کے وار سے ایک اور مسافر زخمی ہوا ہے لیکن اس کے زخم جان لیوا نہیں ہیں۔

پولیس نے قاتل کی شناخت جیرمی جوزف کرسٹین کے نام سے کی ہے۔وہ پورٹ لینڈ کا رہنے والا ہے اور اس کی عمر پینتیس سال ہے۔اس کو اس حملے کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔

امریکی ریاست میں یہ واقعہ رمضان المبارک کے آغاز سے چند گھنٹے قبل جمعہ کی شب پیش آیا تھا۔پورٹ لینڈ کے محکمہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے مسلم خواتین کے خلاف نسل پرستانہ اور مذہبی بنیاد پر آوازے کسے تھے۔جب تین افراد نے اس کو اس کی غلط حرکت سے روکنے کی کوشش کی تو اس نے ان تینوں کو چاقو گھونپ دیا۔

کرسٹین کے خلاف قتل اور اقدام قتل کے دو الزامات اور ناجائز ہتھیار رکھنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔اس کو بلا ضمانت گرفتار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔پولیس نے اس کا ماضی کا مجرمانہ ریکارڈ بتانے سے گریز کیا ہے لیکن اوریگن کے ایک اخبار نے عدالتی ریکارڈ کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ وہ ماضی میں ڈکیتی ، اغوا اور ناجائز اسلحہ رکھنے کے مقدمات میں سزا یافتہ ہے۔