.

شام کے المیے کو اُجاگر کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی کاوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انقلابی تحریک کے آغاز کے 6 برس بعد شامی عوام اُس درد اور المیے کے حجم کا اندازہ لگانے پر قادر نہیں جس کا ان کو سامنا کرنا پڑا۔ طویل برسوں سے جاری جبری ہجرت ، قتل اور تباہی اپنے ساتھ موت کے سوا کچھ نہ لائی۔ اب تک تقریبا 20 لاکھ افراد اس جنگ میں ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں جس نے کسی چھوٹے یا بڑے کو نہیں بخشا۔

پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کی تنظیم نے گزشتہ ہفتے گوگل کمپنی کے تعاون سے ایک مختصر وڈیو فلم جاری کی ہے۔ اس کاوش کا مقصد دنیا کو پیغام کے طور پر شامی المیے پر روشنی ڈالنا ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد انسانی تاریخ میں پناہ گزینوں کا ہول ناک ترین بحران ہے۔

مذکورہ وڈیو میں جس کو Searching for Syria کا نام دیا گیا ہے.. شام میں تباہی ، پناہ گزینوں کے المیے اور ہسپتالوں کی بربادی سے متعلق تصاویر کے علاوہ دیگر خوف ناک مناظر بھی دکھائے گئے ہیں جو کئی نسلوں تک لوگوں کے ذہنوں میں باقی رہیں گے۔

اقوام متحدہ کی اِس مہم کا مقصد شامیوں کے دکھ اور اذیت کے بارے میں مختصر ابتدائی معلومات فراہم کرنا ہے۔ ان میں بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد ، تباہ شدہ یا ناقابل استعمال ہسپتالوں کی شرح ، تباہ حال آثاریاتی مقامات اور دنیا بھر میں پناہ گزینوں کی تعداد وغیرہ شامل ہے۔

اقوام متحدہ نے اپنے اس پیغام میں شامیوں کے مصائب پر روشنی ڈالی اور پناہ گزینوں کی مدد کے راستے بھی پیش کیے۔ تاہم اس کے باوجود متعلقہ مہم کی ویب سائٹ پر پیش کی جانے والی رپورٹ میں پیش کردہ تصاویر اور معلومات کے اندر "فاعل" کو نظر انداز کیے جانے کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے (خواہ یہ بلا قصد ہی کیوں نہ ہو)۔ بالخصوص اس موازنے میں کہ 2011ء سے قبل شام میں کس طرح ثقافتی تقریبات اور سرگرمیوں کا دور دورہ تھا جب کہ اُن اذیتوں اور دُکھوں سے یکسر غفلت برتی گئی جن سے شامی عوام بشار حکومت کے ہاتھوں دوچار ہوئے۔

1