.

مانچسٹر حملہ آور کی خودکش حملے سے چند لمحے پہلے کی تازہ تصاویر جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی پولیس نے مانچسٹر میں خودکش حملہ کرنے والے سلمان العبیدی کی دو نئی تصاویر جاری کی ہیں۔ یہ تصاویر اس حملے سے کچھ دیر پہلے کی بتائی جاتی ہیں جس میں العبیدی نے محفل موسیقی میں دھماکا کر کے تقریب کو آہوں اور سسکیوں کا مرکز
بنا دیا اور اس میں ۲۲ افراد ہلاک اور ساٹھ زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔

مانچسٹر پولیس کے سربراہ ایان ہوب کنز اور برطانیہ میں انسداد دہشت گردی پولیس کے ایک اعلی افسر نیل باسو نے ایک مشترکہ بیان میں بتایا کہ سلمان العبیدی حملے سے پہلے جن جگہوں کے مسلسل چکر لگاتا رہا ان میں شہر کے وسطی علاقے میں واقع ایک فلیٹ تھا جہاں سے وہ ارینا مانچسٹر کنسرٹ ہال روانہ ہوا جہاں امریکی گلوکارہ آریانا گراینڈے کی محفل موسیقی منعقد ہو رہی تھی۔

حکام کے بیان کے مطابق یہی وہ فلیٹ ہے جہاں العبیدی نے خودکش حملے میں استعمال ہونے والا بم تیار کیا۔ متعدد برطانوی اخبارات نے تصاویر کے بارے میں حاشیہ آرائی کرتے ہوئے خیال ظاہر کیا ہے کہ دونوں تصویریں اس لفٹ میں لگے خفیہ کیمرے کی ہو سکتی ہیں جس میں سوار ہو کر وہ مانچسٹر آرینا کنسرٹ ہال میں داخلے کے لئے ٹکٹ کاونٹر تک گیا، جس بعد میں موت اور خوف کی علامت بنا دیا گیا۔

برطانیہ حملہ آور کی شناخت بائیس سالہ لیبی نژاد نوجوان سلمان العبیدی کے طور پر ہوئی تھی تاہم بعد میں اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔ تصویر میں سلمان کو سیاہ شرٹ اور ٹراوزر میں ملبوس اور سر پر سیاہ ٹوپی پہنے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس نے کمر پر جو بیک پیک اٹھا رکھا ہے اس کے بارے میں غالب امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بم اسی بیگ میں چھپا رکھا تھا۔

برطانوی پولیس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے دس افراد کو مانچسٹر حملے کے شبہے میں حراست میں لیا ہے۔