.

’’داعش کے خلاف جنگ میں شہریوں کی اموات ’’ زندگی کی حقیقت‘‘ ہیں‘‘

امریکا شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے ہر ممکن اقدام کررہا ہے: وزیر دفاع جیمز میٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ میں شہریوں کی ہلاکتیں ناگزیر ہیں لیکن اس کے باوجود امریکا عام شہریوں کی ان ہلاکتوں سے بچنے کے لیے انسانی طور پر ہر ممکن اقدام کررہا ہے۔

جیمز میٹس نے یہ بات سی بی ایس کے پروگرام ’’ فیس دا نیشن‘‘ (قوم کا مقابلہ) میں انٹرویو کے دوران کہی ہے۔ان کا یہ انٹرویو اتوار کو نشر کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’شہریوں کی ہلاکتیں اس طرح کی صورت حال میں زندگی کی ایک حقیقت ہیں‘‘۔

لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’ ہم شہریوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے انسانی طور پر ہر ممکن اقدام کرتے ہیں اور کسی بھی قیمت پر شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے‘‘۔

امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ممالک کے لڑاکا طیارے سنہ 2014ء سے شام اور عراق میں اس سخت گیر جنگجو گروپ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔ان حملوں میں جنگجوؤں کے علاوہ عام شہریوں کی بھی ہلاکتیں ہورہی ہے۔بعض غیر سرکاری تنظیموں ( این جی اوز ) اور انسانی حقوق کے گروپوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد داعش کے خلاف حملوں میں تیزی کو شہریوں کی زیادہ تعداد میں ہلاکتوں کا ایک سبب قرار دیا ہے۔

لیکن پینٹاگان کے سربراہ نے این جی اوز کی جانب سے فراہم کردہ ہلاکتوں کے اعداد وشمار اور صدر ٹرمپ کی عاجلانہ پالیسی پر تنقید کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ’’ ہم نے داعش کے خلاف کارروائی کے لیے قواعد وضوابط کو تبدیل نہیں کیا ہے اور بے گناہ لوگوں کے تحفظ کے لیے ہمارے ارادوں میں بھی کوئی کمی نہیں آئی ہے‘‘۔

امریکا کی قیادت میں اتحاد نے سرکاری طور پر داعش کے خلاف گذشتہ قریباً تین سال سے جاری مہم کے دوران میں ساڑھے چار سو سے زیادہ ہلاکتوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔ان میں 105 شہری عراق کے شمالی شہر موصل میں 17 مارچ کو ایک حملے میں مارے گئے تھے مگر امریکا نے اس فضائی حملے کا یہ جواز پیش کیا تھا جو مکانات فضائی بمباری میں ہدف بنے تھے ،وہاں داعش نے اسلحہ چھپا رکھا تھا۔

تاہم لندن میں صحافیوں اور محققین پر مشتمل فضائی جنگیں( ائیر وارز) نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ 2014ء سے اب تک عراق اور شام میں اتحادی طیاروں کے فضائی حملوں میں 3681 افراد مارے جاچکے ہیں۔ یہ تنظیم عراق اور شام میں شہریوں کی ہلاکتوں کے اعداد وشمار جمع کرتی ہے اور اس بات کا بھی تعیّن کرتی ہے کہ ان کی ہلاکتیں کس سبب سے ہوئی تھیں۔