.

ایرانی خمینی انقلاب کا قطری ایڈیشن کیا ہے؟

بنیاد پرستوں کی حمایت، قطر نے ایران کی روش اپنائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سنہ1979ء میں برپا ہونے والے ولایت فقیہ کے انقلاب کےبعد بانی انقلاب آیت اللہ علی خمینی کی زیرسرپرتی ملک کا آئین تیار ہوا۔ اس آئین میں ملک کی خارجہ پالیسی کے خدو خال بیان کیے گئے۔ دستور کے چیپٹر 10 کی دفعہ 154 میں خارجہ پالیسی کے ضمن میں کہا گیا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران ظالم اور جابر نظاموں کےخلاف اپنے حقوق کی جدو جہد کرنے والے مظلوم طبقات اور عوام کی حمایت کرے گا۔ مظلوموں کی ہر سطح پر داد رسی کی جائے گی اور اگرانہیں سیاسی پناہ کی ضرورت محسوس ہوئی تو ایران اپنے درازے ان کے لیے کھول دے گا‘۔

بہ ظاہر تو مذکورہ عبارت میں ایران کی انسانی ہمدردی کا پہلو نظر آتا ہے۔ مگر ایرانی پاسداران انقلاب اور اس کی ماتحت ایرانی شیعہ ملیشیاؤں کے دوسرے ممالک میں خون خرابے کو جواز اسی دفعہ نے مہیا کیا۔ ’زمین میں کمزور طبقات‘ کی مدد ہی کی آڑ میں ایران نے خمینی انقلاب کو دوسرے ملکوں تک پہنچانے کی کوششیں کیں۔ انسانی ہمدردی کے سچے جذبے سے کی بھی مظلوم قوم کی حمایت یا مدد اصلا قرآن کا فیصلہ ہے مگر خمینی فلسفے میں صرف ان جماعتوں اور ملکوں کی مدد کی گئی جو کسی نا کسی طور پر خمینی انقلاب کی سیاسی یا مذہبی بنیاد پرحامی تھیں۔ ان میں سر فہرست اخوان المسلمون، اس کی ذیلی تنظیمیں، اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس‘ اسلامی جہاد، کردستان کی انصار الاسلام اور القاعدہ وغیرہ سیاسی طور پر خمینی انقلاب کی حامی تھیں۔ سو ایران کی طرف سے ان کی بھی بھرپور مدد کی جاتی رہی۔

ایرانی انقلاب نے جہاں ایک طرف اہل سنت مسلک کی جماعتوں کو سیاسی طور پراپنے ساتھ ملانے کی کوششیں کیں وہیں شیعہ ایڈیشن بھی تیار کیا۔ ان میں لبنان کی حزب اللہ، یمن کے حوثی گروپ سمیت بحرین، کویت اور سعودی عرب میں شیعہ گروپوں کو پالا پوسا اورانہیں ریاست کے خلاف استعمال کرنے کا مذموم حربہ استعمال کیا گیا۔

قطر اور اخوان المسلمون کی حمایت

اخوان المسلمون کی سیاسی حمایت کی بدولت قطر اور ایران کے خمینی انقلاب کے درمیان بھی گہرے دوستانہ مراسم قائم ہوئے۔ یہ مراسم حمد بن خلیفہ آل ثانی سے آج تک جاری ہیں۔

ایران کی طرف سے قطر کی حمایت اور مدد اس کی اخوان نواز پالیسی رہی۔ قطر نے سیاسی، ابلاغی اور مالی میدان میں اخوان المسلمون اور اس کی دیگر عرب ملکوں لیبیا، مصر، شام، یمن ، تیونس، وسطی ایشیائی ممالک، افریقا اور دوسرے ملکوں تک پھیلے اخوان کے حامی گروپوں کو سپورٹ کیا۔ اسی کی بدولت ایرانی رجیم کی قطر پرخاص ’نظر کرم رہی‘۔

سنہ 1990ء کے عشرے میں ایران نے خلیج میں سیاسی مداخلت کا آغاز کیا تو اسے اپنے مقاصد اور عزائم کی توسیع کے لیے قطر کو استعمال کرنے کی سہولت فراہم کی گئی۔ آزادی کی تحریکوں کی حمایت اور جابروں کے مقابلے میں کمزوروں کی داد رسی کے فلسفے نے نئی جنگیں چھیڑ دیں۔

عراق کویت جنگ کے عرصے اور سعودی عرب میں مداخلت دوران الصحوۃ اور اس کی ذیلی تنظیمیں جن کی بنیاد سعد الفقیہ اور محمد المسعری نے رکھی گئی۔

سابق امیر قطر حمد آل ثانی کی ایک صوتی ریکارڈنگ جس میں انہوں نے لیبیا کے سابق مرد آہن معمر القذافی کے ساتھ بات کرتےہوئے ان سے سعودی عرب میں نظام حکومت تبدیل کرنے کی بات کی تھی آج بھی ریکارڈ پرموجود ہے۔

دوحہ کا بنیاد پرست تنظیموں کے ساتھ باہمی تعاون دوسرے براعظموں تک پھیلا ہواہے۔ قطر نے سنی اور شیعہ دونوں گروپوں کی مدد کی اور اپنے سیاسی اثرو نفوذ کو مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیے موثر طریقے سے استعمال کیا۔

ایران کی طرح قطر بھی پڑوسی یا دوسرے عرب ملکوں میں کسی نا کسی شکل میں مداخلت کی پالیسی پرعمل پیرا رہا۔ اس کی تازہ مثال لیبیا ہے جس کےکئی شہروں بنغازی، طرابلس اور مصراتۃ میں سرگرم انتہا پسند تنظیموں انصار الشریعہ، فجر لیبیا وغیرہ کی مدد کی۔ ان تنظیموں کے کئی سرکردہ لیڈروں کو عالمی سطح پر دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا جن میں عبدالحکیم بلحاج، علی الصلابی اور صلاح بادی سر فہرست ہیں۔ بلحاج القاعدہ کے مقرب ایک جنگجو گروپ کے سربراہ ہیں۔

تیونس میں مشکوک سرگرمیوں میں مدد

جون 2012ء کو تیونس کی اسلام پسند مذہبی جماعت تحریک النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی نے تصدیق کی کہ مملکت قطر نے ابلاغی محاذ پر تیونس میں انقلاب برپا کرنے میں معاونت کی۔ اس مقصد کے لیے قطر سے نشریات پیش کرنے والے ’الجزیرہ‘ ٹی وی کے پلیٹ فارم سے انقلاب کی حمایت میں پرپیگنڈہ کیا گیا۔ الشیخ الغنوشی نے تیونس میں زین العابدین بن علی کا تختہ الٹنے میں ابلاغی محاذ پر معاونت کرنے پر قطر کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی کہا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ قطر تیونس میں سرمایہ کاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے گا۔

مئی 2015ء کو تیونس کے معاون وزیرخارجہ التوھامی العبدولی نے قطر کی مداخلت بند کرنے کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیونس میں سرگرم تنظیموں کو قطر کی طرف سے ملنے والی امداد اور مشکوک افراد کی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے فنڈنگ ملک کی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

عراق اور شام کے انتہا پسند

سنہ 2013ء میں جب امریکا نے عراق میں صدام حسین کا تختہ الٹا تو قطری ذرائع ابلاغ نے دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کا ابلاغی پروپیگنڈہ شروع کردیا۔ قطری ذرائع ابلاغ نے القاعدہ، الزرقاوی کی تنظیم اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کی ابلاغی معاونت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

یہاں تک کہ اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کو لکھنا پڑا’امریکی وزارت خزانہ قطری خیراتی اداروں کی طرف سے عراقی گروپوں کو فراہم کی جانے والی مالی امداد اور شام وعراق میں سرگرم انتہا پسندں کی سوشل میڈیا کے ذریعے حمایت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

افغانستان بھی قطر کی مداخلت سے محفوظ نہیں رہا۔ کابل اور قندھار میں سرگرم تنظیموں اور تحریک طالبان کو قطری تنظیموں اور اداروں کی جانب سے مالی سپورٹ ملتی رہی۔ جون 2013ء کو جب طالبان قیادت کو پوری دنیا میں کوئی منہ لگانے کو تیار نہ تھا دوحہ نے نہ صرف طالبان کو سیاسی پناہ دینے کا اعلان کیا بلکہ دوحہ میں طالبان کے سیاسی شعبے کا دفتر کھولنے میں بھی ان کی مدد کی۔

اسی ضمن میں سابق امریکی صدر باراک اوباما نے 30 مئی 2013ء کو گوانتا نامو جیل میں قید پانچ طالبان رہ نماؤں کو رہا کیا جنہیں قطر نے پناہ دی۔ طالبان نے ان پانچ رہ نماؤں کی رہائی کے بدلے میں پانچ سال سے یرغمال بنائے گئے امریکی سارجنٹ بوپیرگڈل کو رہا کیا تھا۔

گوانتا نامو سے رہائی پانے والوں میں طالبان دور کے وزیر داخلہ ملا خیراللہ خیر خواہ، طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد فاضل اخوند،ڈپٹی ڈائریکٹر انٹیلی جنس ملاعبدالحق وثیق شامل تھے۔

شام کے محاذ پر قطر کی حمایت یافتہ تنظیموں میں النصرہ فرنٹ سر فہرست رہی ہے۔ النصرہ فرنٹ کو القاعدہ کی ذیلی تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ قطر نے النصرہ کی حمایت کے ساتھ ساتھ شام میں اخوان المسلمون کے فکر وفلسفے کی حامی عسکری تنظیموں کی بھی بھرپور حمایت کی اور ان کی ہرممکن مدد کی گئی۔ یمن میں ایران نواز حوثیوں، بحرین میں حکومت مخالف شیعہ گروپوں کی ابلاغی حمایت اور ان کے مظاہروں کو جواز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مشرقی سعودی عرب میں دہشت گردی کے واقعات پرقطر کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت کی گئی۔

لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو قطر ’مزاحمتی‘ قوت قرار دیتا ہے حالانکہ حزب اللہ عالمی اور خلیجی سطح پر دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے۔

قطر اور سلفی سروری تحریک

قطر کی بنیاد پرست تنظیموں کی حمایت اخوان المسلمون یا حزب اللہ تک محدود نہیں بلکہ دوحہ کئی دوسری انتہا پسند تنظیموں کی پشت پناہی کرتا رہا ہے۔ ان میں ایک سخت گیر سلفی جسے ’سروری تحریک‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے شامل ہے۔ السروری تحریک کے بانی محمد سرور زین العابدین نامی ایک شدت پسند تھے جو نومبر2016ء کو دوحہ میں انتقال کرگئے۔

السرور کے انتقال پرامیر قطر ان کی رہائش گاہ پر تعزیت کرنے پہنچے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قطری حکومت سرکاری سطح پر السروری تحریک کو سپورٹ کررہی تھی۔

بنیاد پرست مذہبی تنظیموں کی سرپرستی اور پشت پناہی کے بارے میں پیش کردہ حقائق دوحہ حکومت کے خلاف چارج شیٹ سے کم نہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قطر کھلے عام اسلامی سیاسی تحریکوں جن میں حماس، اخوان المسلمون اور السروری تحریک شامل ہیں کی حمایت اور تائید کرتا ہے۔ اسی طرح غیر سیاسی جہاد عناصر میں حزب اللہ جیسی بنیاد پرست جماعتوں کو ایران کی طرح قطر کی طرف سے بھی مکمل سپورٹ ملتی ہے۔