.

لیبیا کے شہر درنہ میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر مصر کے تازہ فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر اور لیبیا کے لڑاکا طیاروں نے لیبی شہر درنہ اور اس کے نواحی علاقوں میں القاعدہ سے وابستہ مجاہدین شوریٰ کونسل کے ٹھکانوں پر سوموار کی صبح نئے فضائی حملے کیے ہیں۔

مصر کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ جمعہ کے بعد سے لیبیا میں انتہا پسند وں کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ لیبیا کی فوج نے اتوار کے روز اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مصر کے لڑاکا طیاروں نے اس کے ساتھ رابطے کے ذریعے القاعدہ کی مجاہدین شوریٰ کونسل کے ہیڈ کوارٹرز اور اس سے وابستہ بشر کیمپ پر فضائی بمباری کی تھی۔

مصر لیبیا میں یہ فضائی کارروائی المنیا شہر میں قبطی عیسائیوں کی ایک بس پر نقاب پوش مسلح افراد کی فائرنگ کے ردعمل میں کررہا ہے۔دہشت گردی کے اس حملے میں انتیس قبطی عیسائی ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ایک نشری تقریر میں کہا تھا کہ ان کا ملک ’’دہشت گردی کے کیمپوں‘‘ پر کسی بھی جگہ حملے سے نہیں ہچکچائے گا اور اندرون اور بیرون ملک انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ مصر کسی ملک کے خلاف سازش کا حصہ نہیں ہے اور وہ صرف اپنی قومی سلامتی کا مکمل تحفظ چاہتا ہے۔انھوں نے کسی خاص ملک کا تو نام نہیں لیا ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ لیبیا میں سنہ 2011ء میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مصر اپنی سرحدوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔

لیبیا کی قومی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر نے اتوار کے روز لیبیا کے مغربی اور جنوبی علاقوں سے تعلق رکھنے والے فوجی یونٹوں کوطرابلس میں انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی تھی۔