.

ایرانی گولہ باری میں شہری کی ہلاکت پر پاکستان کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے ایرانی سرحدی محافظین کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے کے نتیجے میں ضلع پنجگور (بلوچستان) میں اپنے ایک شہری کے جاں بحق ہونے پر شدید احتجاج کیا ہے۔

مکران کے کمشنر بشیر بنگلزئی نے ایک اخباری بیان میں بتایا کہ " ایرانی سرحد سے داغا جانے والا مارٹر گولہ پنجگور کے علاقے میں ایک گاڑی کو لگا جس کے نتیجے میں پاکستانی شہری جاں بحق ہو گیا"۔

اناضول نیوز ایجنسی کے مطابق واقعے کے بعد پاکستان نے سخت مذمت پر مشتمل پیغام ایران کو بھیجا۔ توقع ہے کہ دونوں ملکوں کے ذمے داران مذکورہ واقعے کو زیر بحث لانے کے لیے ملاقات کریں گے۔

پاکستانی اخبار "دی ایکسپریس ٹریبیون" نے صوبے میں رینجرز کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی گولہ باری سے جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہری کا نام کریم جان ہے۔

یہ واقعہ ایرانی نظام کی مخالف بلوچی تنظیم "جیش العدل" کی جانب سے ایران کے جنوب مشرق میں پاکستانی سرحد کے نزدیک گھات لگا کر 10 ایرانی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے ایک ماہ بعد پیش آیا ہے۔

ایرانی مسلح افواج نے رواں ماہ اسلام آباد کو خبردار کیا تھا کہ اگر سرحد پار موجود سنی گروپوں کو روکا نہ گیا تو تہران پاکستان کے اندر ان گروپوں کو نشانہ بنائے گا۔

گزشتہ ماہ ہونے والے حملے کے بعد "جیش العدل" تنظیم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ " وہ قومی اور مذہبی حقوق حاصل ہونے تک اپنی مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھے گی.. اور حقوق کی پامالی کرنے والے ہر فریق کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو گی"۔

پاکستان اور افغانستان کے ساتھ سنی اکثریت کے سرحدی صوبے میں اکثر و بیشتر پاسداران انقلاب اور سرحدی محافظین کی مسلح بلوچی گروپوں کے ساتھ جھڑپیں دیکھنے میں آتی ہیں۔ ان مسلح گروپوں کا کہنا ہے کہ وہ بالعموم سنیوں اور بالخصوص بلوچوں کے خلاف مذہبی امتیاز اور اذیت رسانی کے خاتمے کے واسطے ایرانی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔