صدر حسن روحانی کا مشیر جاسوسی کے الزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی سپریم جوڈیشل کونسل کے مطابق انٹیلی جنس حکام نے صدر حسن روحانی کے مشیر اور ان کے مقرب سمجھے جانے والے ایک عہدیدار حسام الدین آشنا کو جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی جوڈیشل کونسل کے ترجمان غلام حسین محسنی ایجئی نے ایک بیان میں بتایا کہ وزارت برائے انٹیلی جنس کے حکم پر صدر حسن روحانی کے مشیر حسام الدین آشنا کو جاسوسی کے مبینہ الزامات کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

ایران عدالتی کونسل کے ماتحت ’میزان‘ نیوزایجنسی کے مطابق غلام حسین ایجئی نے بدھ کو تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ صدر کے دفتر میں ان کے مشیر کے طور پرکام کرنے والے ایک عہدیدار کو جاسوسی کے الزامات کے بعد حراست میں لیا گیا۔

خیال رہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے متنازع ایٹمی پروگرام پر جولائی 2015ء کو طے پائے سمجھوتے کے بعد پولیس کی جانب سے دسیوں افراد کو جاسوسی کے شبے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں شدت پسندوں پر مشتمل ایرانی جوڈیشل کونسل کے حکم پرعمل میں لائی گئی ہیں۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ جاسوسی کے الزامات کے تحت گرفتاریوں کا مقصد ایران میں مغربی اثرو نفوذ کی راہ روکنا ہے۔

ایران کے پراسیکیوٹر جنرل عباس جعفر دولت آبادی نے رواں سال جنوری میں ایک بیان میں بتایات ھا کہ پولیس نے جاسوسی کے الزام کے تحت 70 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے اور ان سب کو تہران کی ایک جیل میں رکھا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں