مراکش : شمالی علاقے الریف میں مسلسل چھے روز سے مظاہرے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مراکش کے شمالی علاقے الریف میں ہزاروں مظاہرین اپنے ایک عوامی لیڈر کی گرفتاری کے خلاف گذشتہ چھے روز سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ رمضان میں رات کے وقت احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔

اس علاقے میں گذشتہ سال اکتوبر سے بد امنی پائی جارہی ہے ۔تب مچھیروں کے ایک رہ نما محسن فکری کو کچرے کے ٹرک تلے کچل کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ان کی ہلاکت کے خلاف الحسیمہ شہر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔بعد میں یہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرگئے ہیں اور اب مراکش کے اس پسماندہ علاقے کے مکین ترقی اور روز گار کے مواقع مہیا کرنے کے مطالبات کررہے ہیں۔

اس عوامی تحریک ’’ الحرکۃ الشعبی‘‘ کے سربراہ ناصر الزفزیفی کو سوموار کے روز حکام نے گرفتار کر لیا تھا۔ان کی گرفتار ی کے خلاف بدھ کو قریباً دو ہزار افراد نے الحسیمہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور وہ ان کے حق میں اور حکام کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔

ناصر الزفزیفی اور ان کے ساتھیوں کو داخلی سکیورٹی پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔گذشتہ جمعہ کو ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔سرکاری میڈیا اور مرکزی سیاست دانوں نے الریف میں رونما ہونے والے ان واقعات کے حوالے سے زیادہ تر خاموشی ہی اختیار کررکھی ہے۔البتہ حکمراں عدل اور ترقی پارٹی سمیت تین جماعتوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے اور اس میں علاقے میں سنگین ہوتی صورت حال کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ بیان میں احتجاجی مظاہروں پر ریاست کے ردعمل پر کڑی نکتہ چینی کی گئی ہے۔

مراکشی حکام نے گذشتہ جمعہ کوالحرکۃ الشعبی کے ارکان سمیت چالیس افراد کو گرفتار کر لیا تھا ۔ان میں سے پچیس کے خلاف اب مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ ان کے خلاف منگل کو مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تھی لیکن عدالت نے ان کے وکلاء کی درخواست پر مزید سماعت 6 جون تک ملتوی کردی تھی۔وکلاء نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکلین سے دوران حراست ناروا سلوک کیا گیا ہے۔ گرفتار کیے گئے سات مشتبہ افراد کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے اور سات کو کسی فردِالزام کے بغیر چھوڑدیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ الریف کے علاقے میں زیادہ تر بربر نسل کے لوگ آباد ہیں ۔ان کے مراکش کے مرکزی حکام سے ایک عرصے سے تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں ۔اسی علاقے میں سنہ 2011ء میں عرب بہاریہ تحریک سے متاثر ہوکر مقامی لوگوں نے کئی روز تک احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں