امریکا نے پیرس ماحولیاتی معاہدے سے علاحدگی اختیار کر لی

ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ غیر دانش مندانہ ہے: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا سنہ 2015 میں پیرس میں ماحولیات سے متعلق طے پانے والے عالمی ماحولیاتی معاہدے سے باہر نکل رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اس معاہدے سے نکل رہا ہے کیوں کہ اس میں شامل شرائط کی وجہ سے اس پر اقتصادی بوجھ پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب سابق امریکی صدر براک اوباما اور یورپی یونین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ماحولیات سے متعلق عالمی معاہدے کوختم کر کے غیر ذمہ دارنہ پالیسی اپنا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ عرصے میں واشنگٹن کی جانب سے کیے جانے والے یہ ایک ایسے معاہدے کی مثال ہے جس میں دوسرے ممالک کا فائدہ ہے اور وہ امریکا کے لیے ’منصفانہ‘ شرائط کے ساتھ دوبارہ معاہدے کا حصہ بننے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔

خیال رہے کہ امریکا کے سابق صدر براک اوباما نے 2015ء میں یہ معاہدہ کیا تھا اور اس اعلان پر ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ’مستقبل کو رد‘ کر رہی ہے۔

یورپی ممالک کی طرف سے بھی ٹرمپ کے تازہ اعلان پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ کینیڈا کی ماحولیات کی وزیر کیتھرین میکینا کا کہنا ہے کہ کینیڈا کو ٹرمپ کے اس فیصلے سے ’بہت مایوسی‘ ہوئی ہے۔

فرانس، جرمنی اور اٹلی کے سربراہان نےایک مشترکہ بیان میں اس معاہدے سے متعلق امریکا سے دوبارہ کسی قسم کے مذاکرات کرنے کو مسترد کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال صدارتی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ اس معاہدے سے امریکہ کو نکال لیں گے تاکہ کوئلے اور تیل کی صنعت کو فائدہ پہنچے۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے نکلنا امریکی صدر کا ایک عالمی چیلنج کا سامنا کرنے سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے۔

پیرس معاہدے کے تحت امریکا اور دیگر 187 ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی درجہ حرات میں اضافے کو دو ڈگری سے نیچے رکھیں اور مزید کوششیں کر کہ اس کو 1.5 ڈگری تک محدود کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے ایک مرتبہ پھر صدر ٹرمپ سے اپیل کی تھی کہ وہ اس معاہدے کو نہ توڑیں لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی موقف کے باوجود ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

مسٹر گوتیرس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا 'یہ واضح طور پر ایک اہم فیصلہ ہے کیوں کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے'۔

'لیکن امریکی حکومت کے فیصلے کے باوجود یہ ضروری ہے کہ باقی حکومتیں اس پر کام کرتی رہیں۔'

'پیرس معاہدہ ہم سب کے مستقبل کے لیے بہت ضروری ہے اور یہ اہم ہے کہ امریکی معاشرہ بھی دوسرے معاشروں کی طرح اور کاروباری برادری، خود کو پیرس معاہدے کے تحفظ کے لیے کام کرے تاکہ ان کے بچوں اور بچوں کے بچوں کا مستبل روشن ہو۔' '

ادھر چین اور یورپی یونین کے رہنما پیرس ماحولیاتی معاہدے سے متعلق ایک مشترکہ بیان میں اس موقف کے ساتھ اتفاق کرنے والے ہیں کہ یہ 'پہلے سے کہیں زیادہ ضروری اور اہم ہے۔'

اس سے متعلق ڈرافٹ تک بی بی سی کو جو رسائی حاصل ہوئی ہے اس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ 'اس کے نفاذ کے لیے اعلی درجے کے سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔'

اس سلسلے میں یورپی یونین اور چین کے مشترکہ بیان کی تفصیلات جمعے کے روز برسلز میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کی جائیں گي۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں